Table of Contents
پینٹاگون نے ایران میں شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے دھماکے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ واقعہ یکم ستمبر کو جنوبی ایران کے شہر کوہستک میں پیش آیا۔
امریکی فوج نے اسی روز ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون اس امکان کی تحقیقات کر رہا ہے کہ امریکی بم ہدف سے ہٹ گیا تھا۔
اس کے نتیجے میں قریب واقع ایک گھر میں شادی کی تقریب متاثر ہوئی۔
امریکی حملے کا اصل ہدف کیا تھا؟
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی طیاروں نے کوہستک میں ایک مواصلاتی مرکز کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ مرکز ایرانی فورسز کے استعمال میں تھا۔
اس حملے میں امریکی طیاروں نے چھ ہتھیار گرائے۔
رپورٹ کے مطابق پانچ ہتھیار ہدف کے قریب پہنچے۔
ایک ہتھیار ممکنہ طور پر راستے سے ہٹ گیا۔
یہ ہتھیار قریب موجود ایک گھر سے جا ٹکرایا۔
اس گھر میں اس وقت شادی کی تقریب جاری تھی۔
فضائی دفاعی میزائل کے امکان کی بھی جانچ
پینٹاگون دھماکے کی دوسری ممکنہ وجوہات کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔
ان میں فضائی دفاعی میزائل کے گرنے کا امکان بھی شامل ہے۔
تاہم واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ماہرین نے اس امکان کو کم قرار دیا ہے۔
اخبار کے مطابق جائے وقوعہ کی تصاویر اور ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ان شواہد کی مدد سے دھماکے کی جگہ اور ہدف کے درمیان فاصلہ بھی جانچا گیا۔
امریکی ہتھیار کے ہدف سے ہٹنے کا امکان
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ابتدائی شواہد ایک امریکی ہتھیار کے ہدف سے ہٹنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی طیاروں نے مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا تھا۔
شادی کی تقریب والا گھر اس ٹاور سے تقریباً 134 میٹر دور تھا۔
رپورٹ کے مطابق استعمال ہونے والے ہتھیار امریکی ساختہ JSOW گلائیڈ بم تھے۔
یہ ہتھیار دور سے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
رائٹرز کی ایک الگ رپورٹ میں بھی امریکی ہتھیار کے براہ راست حملے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔
رائٹرز کے مطابق ماہرین نے دستیاب تصاویر اور ویڈیوز کا تجزیہ کیا تھا۔
جانی نقصان کی اطلاعات
واقعے میں شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایرانی نائب وزیر صحت نے چار افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی۔
ان میں دو خواتین اور دو بچے شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق 90 سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے۔
تاہم واشنگٹن پوسٹ نے ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
رائٹرز نے بھی چار ہلاکتوں اور کم از کم 68 زخمیوں کی اطلاع دی تھی۔
امریکا نے تحقیقات شروع کر دی ہیں
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تحقیقات کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکام واقعے کی حقیقت جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی واقعے سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لینے کی تصدیق کی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا جاتا۔
حتمی تحقیقات سے ہی دھماکے کی اصل وجہ واضح ہوگی۔
