Table of Contents
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مغربی کنارے میں آبادکار چوکیوں کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق دو باخبر ذرائع نے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ امریکی دباؤ کے درمیان سامنے آیا۔
امریکا نے فلسطینیوں پر آبادکاروں کے حملے روکنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ بڑھایا ہے۔
تقریباً 100 چوکیوں کو نشانہ بنانے کی اطلاع
اسرائیلی نیوز ویب سائٹ Ynet نے پہلے تقریباً 100 چوکیوں کی نشاندہی کی تھی۔
تاہم، کارروائی شروع ہونے کی تاریخ ابھی واضح نہیں ہے۔
اسرائیلی حکام نے بھی فوری طور پر تفصیلات جاری نہیں کیں۔
اسرائیلی قانون کے تحت ایسی چوکیوں کو غیر مجاز سمجھا جاتا ہے۔
یہ چوکیوں عموماً تمام ضروری سرکاری اجازتوں کے بغیر قائم کی جاتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق کئی چوکیوں کو مختلف سطح پر حکومتی مدد بھی ملتی رہی ہے۔
کچھ چوکیوں کو بعد میں باضابطہ حیثیت بھی دی گئی ہے۔
اسرائیلی حکام نے ماضی میں ایسی بعض چوکیوں کو منہدم کیا ہے۔
تاہم، بعض مقامات پر دوبارہ تعمیر کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
اسموتریچ نے نیتن یاہو کی ہدایت کا ذکر کیا
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل اسموتریچ سے یروشلم میں ایک کانفرنس کے دوران سوال کیا گیا۔
یہ سوال Ynet کی رپورٹ سے متعلق تھا۔
اسموتریچ نے نیتن یاہو کی ہدایت کا ذکر کیا۔
ان کے مطابق ایریا اے اور ایریا بی میں بعض تعمیر شدہ مقامات کو خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اوسلو معاہدوں کے تحت ایریا اے اور بی میں فلسطینی اتھارٹی کو مختلف سطح کے انتظامی اختیارات حاصل ہیں۔
اسرائیلی اخبار معاریو کے مطابق ایریا بی میں کارروائی کی کوشش نئی نہیں ہے۔
اخبار کے مطابق یہ معاملہ اپریل کے حکومتی فیصلے میں بھی شامل تھا۔
امریکی سفیر مائیک ہکابی کا سخت مؤقف
اس پیش رفت سے ایک روز قبل امریکی سفیر مائیک ہکابی نے مغربی کنارے کا دورہ کیا۔
انہوں نے ایک قصبے میں فلسطینی نژاد امریکی شہریوں سے ملاقات کی۔
ہکابی نے پرتشدد آبادکاروں کے اقدامات پر سخت تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے ایسے اقدامات کو ’’مجرمانہ رویہ اور دہشت گردی‘‘ قرار دیا۔
امریکی سفیر نے آبادکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
ہکابی کے مطابق فلسطینیوں کا تحفظ اسرائیل کے اپنے مفاد میں ہے۔
مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد پر تشویش
حالیہ مہینوں میں مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ان واقعات میں حملے اور ہراساں کرنے کے واقعات شامل ہیں۔
ناقدین اسرائیلی حکومت پر ایسے واقعات کے خلاف ناکافی کارروائی کا الزام لگاتے ہیں۔
ان کے مطابق بعض واقعات میں گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں کم ہوتی ہیں۔
اسرائیلی حکومت ان الزامات اور پالیسی پر مختلف مواقع پر اپنا مؤقف پیش کرتی رہی ہے۔
نیتن یاہو کے دفتر نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
تازہ حکم کو مغربی کنارے میں آبادکار چوکیوں اور تشدد سے متعلق بڑھتے امریکی دباؤ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
