Table of Contents
جرمنی کی ریاست سیکسنی انہالٹ میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت AfD نے برتری حاصل کر لی ہے۔
ابتدائی ایگزٹ پول کے مطابق AfD نے 44.5 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
چانسلر فریڈرک مرز کی جماعت CDU کو 18.5 فیصد ووٹ ملے۔
نتائج جرمنی میں دائیں بازو کی سیاست کے بڑھتے اثر کو ظاہر کرتے ہیں۔
تاہم AfD کے لیے حکومت بنانا ابھی یقینی نہیں ہے۔
AfD حکومت بنا سکے گی یا نہیں؟
AfD نے واضح برتری حاصل کی ہے۔
تاہم اسے حکومت بنانے کے لیے اتحادیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
جرمنی کی بیشتر مرکزی سیاسی جماعتیں AfD کے ساتھ اتحاد سے گریز کرتی ہیں۔
اس صورتحال میں حکومت سازی کا عمل مشکل ہو سکتا ہے۔
اگر AfD کو واضح اکثریت نہ ملی تو دیگر جماعتوں کو اتحاد بنانا ہوگا۔
اس عمل میں طویل سیاسی مذاکرات کا امکان ہے۔
الریش زیگمنڈ کا تاریخی فتح کا دعویٰ
سیکسنی انہالٹ میں AfD کے سرکردہ امیدوار الریش زیگمنڈ نے نتائج کو تاریخی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت نے ریاست میں تاریخ رقم کی ہے۔
زیگمنڈ نے انتخابی نتیجے کو AfD کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
AfD کا مقصد ریاستی سطح پر حکومت بنانے کے ساتھ قومی سیاست میں بھی اپنا اثر بڑھانا ہے۔
CDU کو بڑا انتخابی دھچکا
فریڈرک مرز کی CDU کو ریاستی انتخابات میں بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔
ایگزٹ پول کے مطابق CDU کو صرف 18.5 فیصد ووٹ ملے۔
2021 کے انتخابات میں جماعت نے 37.1 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔
اس نتیجے کو مرز کی حکومت کے لیے سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
دیگر جماعتوں کی پوزیشن
ایگزٹ پول کے مطابق گرین پارٹی اور سوشل ڈیموکریٹس بھی ریاستی پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی حد عبور کر گئے۔
دیگر ابتدائی نتائج میں بائیں بازو کی جماعت Die Linke اور BSW بھی پارلیمانی نشستوں کی دوڑ میں شامل دکھائی دیں۔
حتمی نشستوں کی تعداد سرکاری نتائج مکمل ہونے کے بعد واضح ہوگی۔
AfD کی پالیسیوں پر اختلاف
AfD امیگریشن اور پناہ گزینوں کے معاملے پر سخت پالیسی کی حمایت کرتی ہے۔
جماعت روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بھی وکالت کرتی رہی ہے۔
اس کا مؤقف یوکرین جنگ پر جرمنی کی موجودہ پالیسی سے مختلف ہے۔
جرمنی کی داخلی انٹیلی جنس سروس نے جماعت کے بعض حصوں کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی ہے۔
AfD ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
روس اور امریکا سے تعلقات پر مؤقف
الریش زیگمنڈ نے انتخابی نتائج کے بعد روس اور امریکا دونوں سے تعلقات پر بات کی۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی کو دونوں ممالک کے ساتھ سمجھدار سفارت کاری کی ضرورت ہے۔
AfD کی شریک رہنما ایلس ویڈل نے بھی نتیجے کو تاریخی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت جرمنی کے قومی مفادات کی نمائندگی کرنا چاہتی ہے۔
جرمنی کی سیاست پر ممکنہ اثرات
سیکسنی انہالٹ کا نتیجہ جرمنی کی وفاقی سیاست کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
AfD نے ریاست میں اپنی حمایت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
دوسری جانب CDU کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
اب سب سے اہم سوال حکومت سازی کا ہے۔
اگر AfD اکثریت حاصل نہیں کر پاتی تو دیگر جماعتوں کو متبادل اتحاد بنانا ہوگا۔
