Table of Contents
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے مقبوضہ بیت المقدس میں نئی یہودی آبادکاری کے لیے ٹینڈر جاری کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔
حسین ابراہیم طہٰ نے کہا کہ اسرائیلی اقدام مقبوضہ علاقوں میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق یہ پالیسی آبادکاری اور الحاق کے منصوبوں کا حصہ ہے۔
او آئی سی کا اسرائیلی آبادکاری پر ردعمل
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ نئی اسرائیلی بستیاں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی حیثیت بدلنے کی کوشش ہیں۔
انہوں نے اس پالیسی کو قانونی اور آبادیاتی تبدیلیوں سے جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات فلسطینی علاقوں کی موجودہ صورتحال کو متاثر کرتے ہیں۔
او آئی سی پہلے بھی اسرائیلی آبادکاری کی پالیسی پر تشویش ظاہر کر چکی ہے۔ تنظیم نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اس نوعیت کے اقدامات کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیا ہے۔
مقبوضہ علاقوں کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش
حسین ابراہیم طہٰ کے مطابق نئی آبادکاریاں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی قانونی اور سیاسی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں زمینی حقائق بدلنے کی پالیسی خطے میں امن کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر مجبور کرے۔
عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ
حسین ابراہیم طہٰ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی آبادکاری کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال کو تبدیل کرنے والے اقدامات کو روکنا ضروری ہے۔
او آئی سی نے اس سے قبل بھی مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی اقدامات کو مسترد کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ شہر کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
