Table of Contents
برطانوی حکومت کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران 80 ہزار سے زائد غیر ملکیوں کو برطانیہ سے واپس بھیجا گیا۔
ان افراد میں غیر ملکی مجرم بھی شامل ہیں۔ پناہ کی درخواستیں مسترد ہونے والے افراد کو بھی واپس بھیجا گیا۔
11 ہزار سے زائد غیر ملکی مجرم ملک بدر
برطانوی اخبار کے مطابق واپس بھیجے گئے غیر ملکی مجرموں کی تعداد 11 ہزار 733 ہوگئی ہے۔
ان میں تقریباً 5 ہزار 995 مجرم ایسے تھے جنہیں سزا مکمل ہونے سے پہلے ملک بدر کیا گیا۔
حکومت نے امیگریشن قوانین پر عمل درآمد سخت کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
پناہ کی درخواست دینے والے بھی واپس بھیجے گئے
رپورٹ کے مطابق 24 ہزار 471 افراد کو بھی برطانیہ سے واپس بھیجا گیا۔
ان افراد کی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی جاری تھی۔ بعض افراد کی درخواستیں پہلے ہی مسترد ہوچکی تھیں۔
مزید 19 ہزار 622 افراد کو بھی ملک بدر کیا گیا۔ ان افراد کے پاس برطانیہ میں رہنے کا قانونی حق نہیں تھا۔
چھوٹی کشتیوں سے پہنچنے والے افراد بھی شامل
برطانوی اخبار کے مطابق چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے 6 ہزار 103 افراد کو بھی واپس بھیجا گیا۔
برطانوی حکومت غیر قانونی ہجرت روکنے کے لیے اقدامات بڑھا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک بدری کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔
امیگریشن حراستی مراکز میں توسیع کا منصوبہ
برطانوی حکومت نے امیگریشن حراستی مراکز کی گنجائش بڑھانے کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت مراکز کی گنجائش میں 40 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔
حکومت کا مقصد امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی تیز کرنا ہے۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے بھی حکومتی پالیسی واضح کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانون توڑنے والوں کو برطانیہ میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
