Table of Contents
ویانا: آسٹریا نے روسی اسلحہ ساز صنعت کو آلات فراہم کرنے والی ایک مبینہ پابندی شکن اسکیم کا سراغ لگا لیا ہے۔
آسٹریا کی وزارت داخلہ کے مطابق ایک ویانا کی کمپنی یورپی یونین کی پابندیوں کے باوجود روس کو صنعتی آلات فراہم کر رہی تھی۔
یہ آلات روسی میزائلوں اور لڑاکا طیاروں کے انجن کی تیاری میں استعمال ہو سکتے تھے۔
کمپنی پر پابندیوں سے بچنے کا الزام
آسٹریائی وزارت داخلہ کے مطابق کمپنی نے پابندیوں سے بچنے کے لیے جعلی اختتامی صارف سرٹیفکیٹس تیار کیے۔
ان دستاویزات کے ذریعے سامان کی اصل منزل چھپائی گئی۔
فراہم کیے گئے سامان میں خصوصی دھاتی مشینی آلات اور CNC مشینیں شامل تھیں۔
یہ مشینیں مختلف صنعتی پرزے اور اوزار تیار کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
بیلاروسی سربراہ گرفتار
آسٹریائی حکام نے کمپنی کے 28 سالہ بیلاروسی سربراہ کو مئی میں گرفتار کیا تھا۔
حکام نے مرکزی ملزم کا نام ظاہر نہیں کیا۔
ملزم اس وقت زیر حراست ہے۔
اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
شیل کمپنیوں کا نیٹ ورک استعمال کیا گیا
آسٹریا کی وزارت داخلہ کے مطابق کمپنی نے سامان کی ترسیل چھپانے کے لیے مختلف ممالک میں شیل کمپنیوں کا نیٹ ورک استعمال کیا۔
اس نیٹ ورک میں ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور ہانگ کانگ شامل تھے۔
بیلاروس، کرغزستان، جنوبی کوریا، پولینڈ اور لیتھوانیا میں بھی کمپنیوں کا استعمال کیا گیا۔
حکام کے مطابق اس طریقہ کار کے ذریعے روس تک سامان پہنچایا گیا۔
روسی دفاعی صنعت سے تعلق
آسٹریائی وزارت نے کہا کہ سامان روسی ریاستی صنعتی ادارے روسٹیک سے وابستہ کمپنیوں کو فراہم کیا گیا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ سامان فوجی سازوسامان کی تیاری میں استعمال ہو رہا تھا۔
اس میں کروز میزائلوں اور لڑاکا طیاروں کے انجن کی تیاری بھی شامل ہے۔
لاکھوں یورو کا سامان روس پہنچا
آسٹریائی حکام نے کارروائی کے دوران تقریباً 140,000 یورو مالیت کی CNC مشینیں اور خصوصی آلات ضبط کیے۔
وزارت کے مطابق گزشتہ سال اگست میں چار چھاپے بھی مارے گئے تھے۔
ان کارروائیوں کے دوران اہم شواہد حاصل ہوئے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ 2022 سے اب تک روسی اسلحہ ساز کمپنیوں کو 3.3 ملین یورو سے زیادہ کا صنعتی سامان فراہم کیا گیا۔
آسٹریا کا پابندیوں پر سخت مؤقف
آسٹریا کے انٹیلی جنس امور کے وزیر جونیئر جورگ لیچٹفرائیڈ نے کارروائی کو اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یورپی ٹیکنالوجی کو روسی میزائل اور فضائی دفاعی نظام بنانے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا۔
ان کے مطابق آسٹریا پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔
روسی سفارتخانے کا مؤقف
ویانا میں روسی سفارتخانے نے معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
روسی صنعتی ادارے روسٹیک نے بھی فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
آسٹریائی حکام کے مطابق مقدمے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
