Table of Contents
ڈھاکا: بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام عالمگیر ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے۔
پارلیمانی انتخاب میں مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے اپوزیشن اتحاد کے امیدوار ریٹائرڈ کرنل اُولی احمد کو شکست دی۔ عالمگیر نے 255 ووٹ حاصل کیے۔ ان کے مقابل امیدوار کو 88 ووٹ ملے۔
یہ بنگلہ دیش میں 35 سال بعد پہلا صدارتی انتخاب تھا جس میں باقاعدہ مقابلہ ہوا۔
صدر کا عہدہ زیادہ تر رسمی نوعیت کا ہے
بنگلہ دیش میں صدر سربراہِ مملکت ہوتے ہیں۔
صدر مسلح افواج کے کمانڈر انچیف بھی ہوتے ہیں۔ تاہم حکومت کے انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس رہتے ہیں۔
مرزا فخر الاسلام عالمگیر کی کامیابی سے بی این پی کو ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے میں بھی نمائندگی مل گئی ہے۔
مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا سیاسی سفر
78 سالہ مرزا فخر الاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک اہم نام ہیں۔
وہ طویل عرصے تک بی این پی کے سیکریٹری جنرل رہے۔ انہوں نے 2016 سے پارٹی کی یہ ذمہ داری سنبھال رکھی تھی۔
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے دور میں عالمگیر حکومت کے بڑے ناقد رہے۔
اس دوران انہیں گرفتاری اور مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ وہ حزب اختلاف کی سیاست میں بی این پی کی اہم آواز سمجھے جاتے رہے۔
سابق صدر کے استعفے کے بعد انتخاب
بنگلہ دیش میں صدارتی انتخاب سابق صدر محمد شہاب الدین کے استعفے کے بعد ہوا۔
شہاب الدین نے صحت کی وجوہات کے باعث اپنی پانچ سالہ مدت مکمل ہونے سے قبل عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ ان کے استعفے کے بعد صدر کے عہدے پر انتخاب ضروری ہوگیا تھا۔
مرزا فخر الاسلام عالمگیر کی بطور صدر حلف برداری جمعے کو متوقع ہے۔
