روسی صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے پرامن مذاکرات اور سمجھوتے پر آمادہ ہے.
St. Petersburg International Economic Forum سے خطاب کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ نے الاسکا میں ہونے والی گفتگو کے دوران سمجھوتوں اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا تھا، اور روس اس سمت میں پیش رفت کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کے قیام کے لیے دونوں فریقوں کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
پیوٹن کے مطابق روس نے حالیہ عرصے میں تقریباً 2440 مربع کلومیٹر اضافی یوکرینی علاقہ اپنے کنٹرول میں لیا ہے جبکہ Luhansk پر روس کا مکمل کنٹرول قائم ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس ڈونباس کے مزید علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کے باوجود امن معاہدے کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔
روسی صدر نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج یوکرین کے مختلف محاذوں پر مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں جبکہ یوکرین کو افرادی قوت اور عسکری سازوسامان کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرینی فوج کا سب سے بڑا مسئلہ تربیت یافتہ فوجیوں کی کمی ہے اور اسی وجہ سے وہ اپنے زیرِ کنٹرول بعض علاقوں سے دستبردار ہو رہی ہے۔
صدر پیوٹن نے کہا کہ روسی اور یورپی انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطے برقرار ہیں اور مختلف سطحوں پر سفارتی بات چیت جاری ہے، جو مستقبل میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ روس اور China کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کئی برسوں سے جاری ہے اور مستقبل میں بھی یہ تعاون برقرار رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک باہمی مفادات کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں اور یہ تعاون کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں۔
توانائی کے شعبے سے متعلق بات کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ جرمنی کو روسی گیس کی درآمد کے حوالے سے خود فیصلہ کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اب بھی Nord Stream کے ذریعے جرمنی کو گیس فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، اور اگر برلن اس حوالے سے مثبت فیصلہ کرتا ہے تو ماسکو فوری تعاون کے لیے آمادہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور امریکا کے بڑھتے ہوئے تعلقات کبھی بھی روس اور بھارت کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری میں رکاوٹ نہیں بنے۔ روس مستقبل میں بھی بھارت کے ساتھ اقتصادی، دفاعی اور سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
روسی صدر کے اس بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مختلف بین الاقوامی سطحوں پر سفارتی کوششیں جاری ہیں اور عالمی طاقتیں تنازع کے سیاسی حل کے امکانات پر غور کر رہی ہیں۔
