ڈبلن: آئرلینڈ کی پارلیمنٹ نے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا بل منظور کر لیا، جسے یورپ میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف اہم تجارتی اقدامات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق "اسرائیلی بستیوں (سامان کی درآمد پر پابندی) بل” کے تحت ان مخصوص اسرائیلی بستیوں سے تیار یا برآمد ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی ہوگی جو اسرائیل کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں سے باہر واقع ہیں۔
قانون کے مطابق پابندی کا اطلاق ان رہائشی، زرعی اور تجارتی سرگرمیوں سے منسلک مصنوعات پر ہوگا جو مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں میں تیار کی جاتی ہیں۔
آئرلینڈ اس نوعیت کی قانون سازی پیش کرنے والا یورپی یونین کا پہلا ملک تھا، تاہم اسپین گزشتہ برس اکتوبر میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق درآمدی پابندیوں کا ایک پیکیج نافذ کر چکا ہے۔
آئرلینڈ کی مرکز دائیں بازو کی اتحادی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کی بنیاد 2024 میں بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کی مشاورتی رائے پر رکھی گئی، جس میں عدالت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اسرائیل کا مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی پر قبضہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل ماضی میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی اس مشاورتی رائے کو مسترد کر چکا ہے اور مقبوضہ علاقوں میں اپنی پالیسیوں کو قانونی اور سکیورٹی ضروریات کے مطابق قرار دیتا رہا ہے۔
یہ قانون آئندہ مراحل سے گزرنے کے بعد نافذ العمل ہوگا، جبکہ اس کے یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان تجارتی تعلقات پر ممکنہ اثرات پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
