Table of Contents
یورپی کمیشن سمیت 15 ممالک نے اسرائیل کے ای ون ویسٹ بینک بستی منصوبے کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا ہے۔
مشترکہ بیان میں دو ریاستی حل کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔
بیان پر برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، کینیڈا، ناروے، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت دیگر ممالک کے رہنماؤں نے دستخط کیے۔
ای ون بستی منصوبے پر شدید تشویش
مشترکہ بیان میں اسرائیلی حکومت کے ای ون ویسٹ بینک بستی منصوبے کے لیے تعمیراتی ٹینڈرز جاری کرنے کے فیصلے کی مذمت کی گئی۔
ممالک نے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا۔ انہوں نے اسرائیل سے منصوبہ واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔
بیان کے مطابق ای ون منصوبہ مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتا ہے۔
اس سے فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی تسلسل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
دو ریاستی حل کو خطرہ
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ای ون منصوبہ دو ریاستی حل کے امکانات کو مزید کمزور کرے گا۔
عالمی برادری طویل عرصے سے اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی مخالفت کرتی رہی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔
ممالک نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی اس مؤقف کی توثیق کر چکی ہے۔
مغربی کنارے کی صورتحال پر تشویش
مشترکہ بیان میں مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔
بیان کے مطابق علاقے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے خلاف تشدد بھی تشویش کا باعث ہے۔
فلسطینی معیشت کو درپیش پابندیوں کا بھی بیان میں ذکر کیا گیا ہے۔
ممالک کے مطابق ایسے حالات میں بستیوں کی توسیع کا فیصلہ مزید تشویش پیدا کرتا ہے۔
اسرائیل سے منصوبہ واپس لینے کا مطالبہ
مشترکہ بیان میں اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ای ون منصوبہ فوری طور پر واپس لے۔
ممالک نے مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع روکنے پر بھی زور دیا۔
بیان کے مطابق ایسے اقدامات امن کے امکانات کو مزید نقصان پہنچائیں گے۔
ان سے اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
کاروباری اداروں کو خبردار
مشترکہ بیان میں کاروباری اداروں کو بھی منصوبے سے متعلق خبردار کیا گیا ہے۔
ممالک نے کہا کہ کمپنیوں کو تعمیراتی ٹھیکوں کے لیے بولی لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔
بیان کے مطابق کاروباری اداروں کو قانونی اور ساکھ سے متعلق ممکنہ نتائج کا جائزہ لینا چاہیے۔
ان میں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کا خطرہ بھی شامل ہے۔
دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ
مشترکہ بیان کے اختتام پر ممالک نے دو ریاستی حل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے جامع، منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کی حمایت کی۔
بیان میں کہا گیا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے عالمی شراکت دار اپنا کردار جاری رکھیں گے۔
