Table of Contents
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور قطر ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ تاہم، ان رابطوں کو مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔
ایرانی اسٹوڈنٹ نیوز ایجنسی کے مطابق عباس عراقچی نے موجودہ سفارتی رابطوں پر بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس وقت براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
پاکستان اور قطر کا سفارتی کردار
عراقچی کے مطابق پاکستان اور قطر ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ دونوں ممالک مختلف پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
تاہم، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ رابطے باقاعدہ مذاکرات کے مترادف نہیں ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست بات چیت کی بحالی کا فیصلہ بھی ابھی نہیں کیا گیا۔
پاکستان اور قطر پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں رابطہ کاری کرتے رہے ہیں۔ حالیہ صورتحال میں بھی دونوں ممالک کے رابطے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
ایران کا آبنائے ہرمز پر سخت مؤقف
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکا کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر سخت جواب دیا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تہران امریکی دھمکیوں یا طاقت کے مظاہرے سے خوفزدہ نہیں ہوگا۔
غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ آبنائے ہرمز ایک اہم تزویراتی آبی گزرگاہ ہے۔ ان کے مطابق اس کے کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ ایران کے اختیار میں ہے۔
امریکا اور ایران میں کشیدگی برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد معمول سے کم رہی ہے۔
موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے ابھی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
