Table of Contents
لاہور: اداکارہ مومنہ اقبال کی بہن رمشا اقبال نے پریس کانفرنس میں اہم دعوے کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں میڈیا ٹرائل کا سامنا ہے۔
رمشا اقبال کے مطابق وہ قانونی کارروائی پر اعتماد رکھتی تھیں۔
تاہم موجودہ صورتحال کے باعث انہیں میڈیا کے سامنے آنا پڑا۔
این سی سی آئی اے میں جمع ثبوت میڈیا پر لانے کا دعویٰ
رمشا اقبال نے کہا کہ ثبوت این سی سی آئی اے میں جمع کروائے گئے تھے۔
ان کے مطابق قانون کے تحت یہ ثبوت میڈیا پر پیش نہیں کیے جا سکتے تھے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے باوجود معاملہ میڈیا میں زیر بحث لایا گیا۔
رمشا اقبال نے کہا کہ اسی وجہ سے وہ بھی اپنے ثبوت سامنے لائی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں دستاویزات کی نقول پیش کی گئیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اینکر کے پاس ان دستاویزات کی قانونی جانچ کا اختیار نہیں تھا۔
ایف آئی آر اور تفتیش سے متعلق دعویٰ
رمشا اقبال نے حمزہ حبیب کے خلاف ایف آئی آر کا بھی ذکر کیا۔
ان کے مطابق حمزہ حبیب پیش ہوئے، لیکن تفتیش آگے نہیں بڑھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ چار ماہ گزرنے کے باوجود سی ڈی آر حاصل نہیں کی گئی۔
رمشا اقبال نے کہا کہ متعلقہ تفتیشی افسر نے کال ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا۔
یہ ان کے بیان کردہ مؤقف اور الزامات ہیں۔
مختلف درخواستوں کا بھی ذکر
رمشا اقبال نے کہا کہ ان کے خلاف مختلف درخواستیں دائر کی گئیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دفعہ 406 کے تحت مقدمہ درج کرانے کی کوشش بھی ہوئی۔
ان کے مطابق عدالت سے ایف آئی آر کے لیے حکم بھی حاصل کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گھر کے قریب متعلقہ تھانے میں درخواست دی گئی۔
رمشا اقبال کے مطابق درخواست پر ڈائری نمبر تک درج نہیں کیا گیا۔
90 لاکھ روپے کی منتقلی کا دعویٰ
رمشا اقبال نے اپنے بینک اکاؤنٹ سے متعلق بھی دعویٰ کیا۔
ان کے مطابق 90 لاکھ روپے بلال اکبر کو منتقل کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت میں بلال اکبر کو ان کا ڈرائیور قرار دیا گیا۔
رمشا اقبال نے سوال اٹھایا کہ اگر وہ ڈرائیور تھے تو ان کے ساتھ کیا کر رہے تھے۔
انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے مؤقف اور دستیاب شواہد پیش کرنے کی وجہ بھی بیان کی۔
تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف اس بیان میں شامل نہیں ہے۔
