Table of Contents
لاہور: اداکارہ مومنہ اقبال نے ہراسانی اور دھمکیوں کے مقدمے سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے۔
لاہور کی سیشن عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔
مومنہ اقبال نے کہا کہ وہ پہلے دن سے غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ کوئی لڑکی شادی سے صرف 10 روز قبل بلاوجہ ایسا معاملہ سامنے نہیں لاتی۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان لوگوں کی بات پر اعتماد کرتی رہی ہیں۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ معاملے کے دونوں فریقوں کی کہانی جانتے ہیں۔
مومنہ اقبال نے واضح کیا کہ اب وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
کیس ادھورا چھوڑنے سے انکار
اداکارہ نے کہا کہ چاہے کوئی بھی شخص ان کے خلاف کھڑا ہو جائے، وہ کیس نہیں چھوڑیں گی۔
ان کے مطابق کسی کو معاملے میں مداخلت کے لیے آمادہ کیا جائے، تب بھی وہ قانونی جنگ جاری رکھیں گی۔
مومنہ اقبال نے کہا کہ وہ اس معاملے کو کسی صورت ادھورا نہیں چھوڑیں گی۔
شواہد سوشل میڈیا پر لانے کا اعلان
مومنہ اقبال نے کہا کہ اگر انہیں قانونی طریقے سے انصاف نہ ملا تو وہ اہم قدم اٹھائیں گی۔
ان کے مطابق وہ ہراسانی سے متعلق اپنے پاس موجود شواہد سوشل میڈیا پر سامنے لائیں گی۔
اداکارہ نے کہا کہ اس کے بعد عوام خود حقائق کا فیصلہ کر سکیں گے۔
صلح کی پیشکش اور دباؤ کا دعویٰ
مومنہ اقبال نے دعویٰ کیا کہ انہیں صلح کی پیشکشیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ معاملہ ختم کرنے کے لیے ان پر دباؤ بھی ڈالا گیا۔
اداکارہ نے تفتیش کے طریقۂ کار پر بھی سوال اٹھائے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سے مناسب انداز میں تحقیقات نہیں کی گئیں۔
نیشنل سائبر کرائم ایجنسی میں شکایت
واضح رہے کہ مومنہ اقبال نے ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔
یہ شکایت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں درج کرائی گئی۔
اداکارہ نے اس معاملے میں غیر جانب دارانہ تحقیقات اور قانونی انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
