واشنگٹن/کیف: وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی آئندہ ہفتے منگل کو واشنگٹن میں ملاقات کریں گے، جہاں روس۔یوکرین جنگ، ممکنہ جنگ بندی اور دوطرفہ تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ، یوکرین اور دیگر شراکت دار روس کے ساتھ جنگ بندی کی نئی تجاویز پر کام کر رہے ہیں۔
یوکرین کے ایک ذریعے نے بتایا کہ صدر زیلنسکی امریکہ کا دورہ کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے، تاہم ان کی ٹیم وائٹ ہاؤس سے صدر ٹرمپ کے شیڈول کی باضابطہ تصدیق کی منتظر تھی، جو اب موصول ہو چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق یوکرین اور امریکی حکام ایک فضائی جنگ بندی (Air Ceasefire) کی تجویز پر بھی مشاورت کر رہے ہیں، جسے بعد ازاں روسی حکام کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ اقدام 2022 میں شروع ہونے والی روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کے نئے مرحلے کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یوکرین اس سے قبل بھی روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو جنگ بندی کی پیشکش کر چکا ہے، تاہم ماسکو نے اسے قبول نہیں کیا تھا۔ اس کے باوجود بعض حکام کا خیال ہے کہ یوکرین کے مسلسل ڈرون اور میزائل حملوں سے روسی معیشت پر بڑھتے دباؤ کے باعث ماسکو کے مؤقف میں نرمی آ سکتی ہے۔
صدر زیلنسکی نے حال ہی میں امریکی ایلچیوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے بھی ملاقات کی، جس میں امن مذاکرات کی بحالی اور آئندہ سفارتی اقدامات پر گفتگو کی گئی۔
ادھر یوکرین کے قائم مقام وزیر دفاع یوہینی خمارا نے بتایا کہ انہوں نے نئے کمانڈر انچیف میخائیلو دراپاتی کے ہمراہ نیٹو میں امریکی سفیر میتھیو وائٹیکر سے کیف میں ملاقات کی، جس میں محاذِ جنگ کی صورتحال، دفاعی تعاون اور روس کے خلاف عسکری حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب ٹرمپ کی قریبی اتحادی اور دائیں بازو کی کارکن لورا لومر نے کہا کہ زیلنسکی نے انہیں بتایا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے امریکہ کا دورہ کریں گے، جہاں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے علاوہ مرحوم امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی یادگاری تقریب میں بھی شرکت متوقع ہے۔

