ٹانک: پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں 12 فوجی جوان، 2 پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک اہلکار شہید ہوگئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی میں 12 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 23 اور 24 جولائی کی درمیانی شب دہشت گردوں نے ٹانک کی پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کرتے ہوئے سکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی۔
بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنایا۔ جوانوں نے غیر معمولی جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہونے والے 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ ناکام ہونے کے بعد شدید دباؤ کا شکار خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی چیک پوسٹ کی بیرونی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں ہونے والے شدید دھماکے سے چیک پوسٹ کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا۔
دھماکے کے باعث 12 فوجی جوان، 2 پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک سرکاری اہلکار شہید ہوگئے، یوں شہداء کی مجموعی تعداد 15 ہو گئی۔
پاک فوج کے مطابق علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ تمام خطرات کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ بلا تعطل جاری رہیں گی اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔
بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وطن کے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں اور شہداء کی عظیم قربانیاں دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔

