صنعاء/لندن: یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کے خلاف میزائل حملے کیے ہیں، جبکہ بحری سلامتی کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سعودی پرچم بردار آئل ٹینکر ENCELIA ایک نامعلوم میزائل کی زد میں آ کر آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے جمعرات کی علی الصبح جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے ENCELIA اور LAYLA نامی دو آئل ٹینکروں کو متعدد بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حوثیوں کا مؤقف ہے کہ دونوں جہاز سعودی عرب کے لیے ان کی اعلان کردہ بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
بحری سلامتی کے ایک ذریعے کے مطابق ENCELIA نے وی ایچ ایف ریڈیو کے ذریعے ہنگامی پیغام بھیجا، جس میں بتایا گیا کہ بحیرہ احمر میں سعودی بندرگاہ جیزان کے قریب جہاز کو میزائل لگا، جس کے نتیجے میں اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ کمپنی Vanguard نے بھی تصدیق کی کہ سعودی پرچم بردار ٹینکر ENCELIA کو سعودی عرب کے الشقیق کے جنوب مغرب میں تقریباً 70 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک نامعلوم پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا۔
دوسری جانب برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی (UKMTO) نے بھی اسی علاقے میں ایک واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ایک ٹینکر کے کپتان نے نامعلوم پراجیکٹائل لگنے کے بعد جہاز میں آگ بھڑکنے کی اطلاع دی، تاہم عملہ آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ادارے کے مطابق فوری طور پر کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ UKMTO کی رپورٹ میں جس ٹینکر کا ذکر کیا گیا ہے، وہ ENCELIA ہی ہے، تاہم مقام اور واقعے کی تفصیلات برطانوی کمپنی Vanguard کی رپورٹ سے مطابقت رکھتی ہیں۔
حوثیوں نے ایک اور ٹینکر LAYLA کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم بحری سلامتی کے ذرائع کے مطابق اس حملے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
یاد رہے کہ حوثی گروپ نے چند روز قبل سعودی عرب کے لیے بحیرہ احمر میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ سعودی بندرگاہوں کی جانب جانے والے جہاز ان کے نشانے پر ہوں گے۔ اسی دوران حوثیوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ انہوں نے متعدد تجارتی جہازوں کو انتباہ کے بعد اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا، تاہم اس دعوے کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

