واشنگٹن / تہران: ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کے دعوے کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ عالمی توانائی کی اہم ترین گزرگاہ کو حقیقتاً بند کیا گیا ہے۔
امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اب تک ایسی کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں جن سے ثابت ہو کہ ایران نے سمندری آمدورفت مکمل طور پر روک دی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں اور حالیہ امریکی۔ایرانی مفاہمتی یادداشت کی مبینہ خلاف ورزیوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے۔ ایرانی فوجی بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ اقدام واشنگٹن کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکامی اور اسرائیلی حملوں کے تسلسل کے باعث اٹھایا گیا۔
ایران نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا جبکہ اسرائیل جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر صورتحال تبدیل نہ ہوئی تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایرانی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بحری راستوں کی نگرانی کرنے والے اداروں، امریکی نیوی اور اتحادی ممالک کے پاس ایسی کوئی اطلاع موجود نہیں جو اس دعوے کی تصدیق کرتی ہو۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت جاری ہے اور بین الاقوامی تجارت میں کسی بڑے تعطل کے شواہد نہیں ملے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی خام تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس آبی راستے کی بندش عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، اسی لیے کسی بھی دعوے کی تصدیق یا تردید کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رکھنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایرانی مذاکراتی وفد سوئٹزرلینڈ روانہ ہونے کی تیاری کر رہا ہے جبکہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف بھی مذاکراتی رابطوں کے لیے یورپ میں موجود ہیں۔ تاہم لبنان میں کشیدگی اور اسرائیل و حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے الزامات نے سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کا دعویٰ ایک سنگین پیش رفت ہے، لیکن امریکی حکام کی جانب سے اس کی تردید سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق اب بھی سفارتی اور اطلاعاتی جنگ کے مرحلے میں ہیں، جبکہ زمینی حقائق کی تصدیق عالمی اداروں اور بحری نگرانی کے نظام کے ذریعے ہی ممکن ہو سکے گی۔
