تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں طے شدہ شرائط پر مکمل عملدرآمد ہونے تک ایران کسی نئے مذاکراتی مرحلے میں شامل نہیں ہوگا۔
ایک بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ اس وقت جاری سفارتی ملاقاتوں کا مقصد نئے معاہدے کرنا نہیں بلکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مفاہمتی انتظامات کے تحت لبنان، ایران، امریکا اور لبنان کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، جس کا مقصد جنگ بندی اور متعلقہ امور کی نگرانی کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤقف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز سے بغیر کسی اضافی لاگت کے بحری آمدورفت کی اجازت صرف 60 دن کے لیے دی گئی ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں اپنے خودمختار حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران اور عمان کی خودمختاری تسلیم شدہ حقیقت ہے۔
باقر قالیباف کے مطابق مستقبل میں آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت انہی ضوابط اور انتظامات کے تحت ہوگی جو ایران مقرر کرے گا۔
تیل کی برآمدات میں اضافہ
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بحری ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد ایران 40 ملین سے زائد بیرل خام تیل برآمد کر چکا ہے۔
انہوں نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن ایران کو عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے سے روکنے کی کوشش کرے گا تو اس کے اثرات پوری عالمی توانائی مارکیٹ پر مرتب ہوں گے۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت اپنا خام تیل پہلے کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ قیمت پر فروخت کر رہا ہے، جو ایرانی توانائی شعبے کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔
ایرانی اسپیکر کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دوحہ میں مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد، ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی اور آبنائے ہرمز کی آئندہ صورتحال کے حوالے سے سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
