واشنگٹن/دوحہ: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان دوحہ میں آج مذاکرات متوقع ہیں، جبکہ ان کے بقول دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح پر رابطے اور بات چیت کا سلسلہ پہلے ہی جاری ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانے کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے ایران کی جانب سے امریکی وفد کے ساتھ براہِ راست ملاقات کی تردید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل تہران کی مذاکراتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ دونوں ممالک اور خطے کے لیے مثبت پیش رفت ہوگی، تاہم اگر بات چیت کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی تو بھی امریکا مضبوط پوزیشن میں رہے گا۔
قطر اور ایران پہلے ہی براہِ راست ملاقات کی تردید کر چکے
جے ڈی وینس کے اس دعوے سے قبل قطر کی وزارتِ خارجہ واضح کر چکی ہے کہ دوحہ میں موجود امریکی نمائندے ایرانی حکام کے ساتھ براہِ راست ملاقات نہیں کریں گے بلکہ ثالثی کرنے والے فریقین سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی کہہ چکے ہیں کہ دوحہ میں امریکی وفد سے کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں اور ایران صرف قطری حکام کے ساتھ منجمد اثاثوں کی واپسی اور مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے حوالے سے بات چیت کرے گا۔
اس صورتحال کے باعث دوحہ میں ممکنہ مذاکرات سے متعلق امریکی اور ایرانی مؤقف میں واضح تضاد سامنے آیا ہے، جبکہ عالمی سفارتی حلقے اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
