رباط/تل ابیب: مراکش کے فوجی افسران غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس کے سلسلے میں اسرائیل پہنچ گئے ہیں، جس کے ساتھ ہی مراکش اس فورس میں شمولیت اختیار کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مراکشی فوجی افسران 18 جون کو جنوبی اسرائیل میں قائم بین الاقوامی استحکام فورس کے ہیڈکوارٹر پہنچے، جہاں انہیں مجوزہ مشن، آپریشنل ڈھانچے اور آئندہ ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
امریکی حکام کے مطابق یہ تعیناتی غزہ بین الاقوامی استحکام فورس کے عملی اور انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کا حصہ ہے۔ فورس کا مقصد جنگ سے متاثرہ غزہ میں سکیورٹی، استحکام اور انتظامی امور کی بحالی میں معاونت فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مراکش نے رواں سال فروری میں غزہ میں پولیس اور فوجی اہلکار تعینات کرنے کی آمادگی ظاہر کی تھی، جس کے بعد اب عملی اقدامات کا آغاز ہو گیا ہے۔ مراکش کی شمولیت کو خطے میں ایک اہم سفارتی اور سکیورٹی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
قبل ازیں بین الاقوامی استحام فورس کے کمانڈ سے وابستہ حکام نے بتایا تھا کہ کم از کم پانچ ممالک غزہ میں امن و استحکام کے لیے دستے یا عملہ فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، تاہم ان ممالک کی مکمل تفصیلات تاحال عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عرب ملک کی جانب سے ایسی فورس میں شمولیت خطے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ غزہ کے مستقبل کے انتظامی اور سکیورٹی ڈھانچے کے حوالے سے بھی نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔
