تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کو دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے اور دفاعی کارروائیاں کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پر ایران کے انتظامات کو قومی سلامتی کا بنیادی جزو قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی قومی سلامتی اس بات سے وابستہ ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایرانی انتظامات اور کنٹرول برقرار رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا کا مقصد صرف ایرانی نظام کو کمزور کرنا نہیں بلکہ ایران کو تقسیم کرنا بھی ہے۔ ان کے بقول، ان حالات میں ایران کے پاس اپنی داخلی طاقت، قومی اتحاد اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ اگر مفاہمتی یادداشت سے ایران کو کوئی عملی فائدہ حاصل نہیں ہوتا تو اس پر عمل جاری رکھنے کی بھی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔
محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ موجودہ مرحلے پر مذاکرات کو کمزوری یا سمجھوتے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، سفارت کاری اور مذاکرات، مزاحمت کی حکمت عملی اور قومی مفادات کے تحفظ کا حصہ ہیں، اور ایران اپنے اصولی مؤقف کے ساتھ دونوں محاذوں پر آگے بڑھتا رہے گا۔

