Table of Contents
صنعا: یمنی سرکاری فوج نے مارب اور حضرموت میں حوثی حملوں کے جواب میں عسکری کارروائی شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
یمنی فوج کے ترجمان ماجد النزیلی نے کہا ہے کہ شہریوں، فوج اور اہم مقامات کو کسی بھی خطرے کا سامنا نہیں کرنے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یمنی عوام اور فوج کو درپیش خطرات کا فیصلہ کن فوجی جواب دیا جائے گا۔
حوثی حملوں میں 30 یمنی فوجی شہید
یمنی حکام کے مطابق حوثی گروپ نے حضرموت اور مارب میں حکومتی فوج کے متعدد فوجی کیمپوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
حملوں کے نتیجے میں 30 یمنی فوجی اہلکار شہید جبکہ 15 زخمی ہوئے۔
حکام کے مطابق حملوں میں فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ان حملوں کے بعد یمنی سرکاری فوج نے حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یمنی فوج کا سخت مؤقف
یمنی فوج کے ترجمان ماجد النزیلی نے واضح کیا کہ حکومت شہریوں اور فوجی تنصیبات کے خلاف کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گی۔
ان کے مطابق فوج ملک میں موجود خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے گی۔
یمنی فوج کا کہنا ہے کہ حوثی حملوں کا جواب دینے کے لیے جاری آپریشن کا مقصد سرکاری فورسز اور شہری علاقوں کو مزید حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
اقوام متحدہ کا بڑے پیمانے پر جنگ کا خدشہ
دوسری جانب یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ایلچی کے مطابق اپریل 2022 میں جنگ بندی کے بعد یمن میں دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
انہوں نے یمنی فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔
اقوام متحدہ نے فریقین سے مذاکرات کی جانب واپس آنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
یمن میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی
مارب اور حضرموت میں حوثیوں کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد یمن کی صورتحال ایک بار پھر سنگین ہوگئی ہے۔
یمنی فوج کی جانب سے جوابی فوجی آپریشن کے اعلان نے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات پیدا کردیئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر جنگ کے خطرے کی نشاندہی کے بعد یمن میں سیاسی مذاکرات کی بحالی اور کشیدگی میں کمی کی کوششیں مزید اہم ہوگئی ہیں۔
