Table of Contents
صنعا: حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ کے سیاسی بیورو کے عہدیدار نصرالدین امیر نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کی کارروائیوں کے احکامات ایران سے نہیں آتے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نصرالدین امیر نے کہا کہ سعودی عرب کے خلاف اقدامات کے لیے حوثیوں کو ایران سے احکامات لینے کی ضرورت نہیں۔
سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کا جواز کیا ہے؟
نصرالدین امیر کے مطابق حوثیوں کی فوجی کارروائیوں کی وجہ سعودی عرب کی جانب سے حوثی گروپ کے خلاف مبینہ جارحانہ اقدامات ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر اقتصادی اور فضائی ناکہ بندی نے یمن میں سنگین انسانی بحران پیدا کیا۔
انصار اللہ کے عہدیدار نے کہا کہ سعودی اقدامات حوثیوں کو مزید فیصلہ کن کارروائیوں کی طرف بڑھنے کے لیے کافی ہیں۔
ایران سے احکامات لینے کی ضرورت نہیں، حوثی رہنما
نصرالدین امیر نے کہا کہ حوثیوں کی فوجی کارروائیوں کے لیے کسی بیرونی ایجنڈے یا اضافی ہدایات کی ضرورت نہیں۔
ان کے بقول انصار اللہ اپنے فیصلے خود کرتی ہے اور سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کا تعلق یمن کی موجودہ صورتحال سے ہے۔
یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں کے ایران کے ساتھ تعلقات اور مبینہ عسکری تعاون مسلسل عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔
سعودی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
حوثی رہنما نے کہا کہ فوجی کارروائیاں رکوانے کے لیے سعودی عرب کو مبینہ ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک ناکہ بندی برقرار رہے گی، حوثیوں کی جانب سے کارروائیوں کے خاتمے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
نصرالدین امیر نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ یمن میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے اقدامات پر نظرثانی کرے۔
بحیرۂ احمر میں بھی کشیدگی برقرار
یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
ان حملوں اور خطے میں جاری کشیدگی نے عالمی بحری تجارت اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔
یمن میں تنازع کے سیاسی حل کے لیے علاقائی اور عالمی سطح پر سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم فریقین کے سخت مؤقف کے باعث کشیدگی میں فوری کمی کے امکانات بدستور غیر یقینی ہیں۔
