ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک جذباتی بیان میں کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ شہداء اور ایرانی قوم کے سامنے کبھی شرمندہ نہ ہوں اور اپنے فرائض اس انداز میں انجام دیں جو شہداء کی قربانیوں کے شایانِ شان ہو۔
اپنے بیان میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ وہ میناب کے مظلوم بچوں اور شہداء کو اپنے تمام اعمال اور فیصلوں کا گواہ سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء آج بھی زندہ ہیں اور وہ اپنے ملک اور قوم کی خدمت کرنے والوں کو دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ وہ ان توقعات پر پورا اتریں۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ موجودہ حالات میں شہداء کی یاد اور ان کی قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے ذمہ داریوں کو نبھانا ان کے لیے ایک قومی اور دینی فریضہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایرانی عوام کے اعتماد اور شہداء کی قربانیوں کی لاج رکھنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اپنے بیان میں خاص طور پر صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب کے شہداء اور متاثرہ بچوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں اور مشکلات انہیں مسلسل اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان مظلوم بچوں اور شہداء کو اپنے کاموں کا گواہ سمجھتے ہیں اور ان کی یاد انہیں مزید خدمت اور جدوجہد پر آمادہ کرتی ہے۔
محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ وہ دعا کرتے ہیں کہ جب ان کا وقت آئے تو وہ عزت اور سربلندی کے ساتھ اپنے ان دوستوں اور ساتھیوں سے جا ملیں جنہوں نے اپنی جانیں وطن، انقلاب اور قوم کے لیے قربان کیں۔ ان کے بقول وہ اپنے ان ساتھیوں کے بے صبری سے انتظار کو محسوس کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان سے سرخرو ہو کر ملاقات کریں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق محمد باقر قالیباف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران داخلی اور علاقائی سطح پر حساس حالات سے گزر رہا ہے اور ملکی قیادت قومی یکجہتی، قربانیوں کی یاد اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے پر زور دے رہی ہے۔
