فرانس کے شہر ایویان-لیس-بینز میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں عالمی رہنماؤں نے یوکرین کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے روس پر مزید اقتصادی دباؤ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ رہنماؤں نے واضح کیا کہ روس کی جنگی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے نئی پابندیوں اور اقتصادی اقدامات کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، جن میں توانائی کے شعبے خصوصاً تیل اور گیس کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں شریک ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کے خلاف جاری جنگ کے تناظر میں ماسکو پر دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اعلامیے کے مطابق جی 7 ممالک روس کے خلاف اپنی پابندیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھیں گے۔
رہنماؤں نے حالیہ امریکا ایران مفاہمتی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کے نفاذ میں تعاون کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور خطے میں استحکام کو فروغ دینے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ ساتھ ہی یہ مؤقف دہرایا گیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور مستقبل کے مذاکرات میں علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
توانائی کے شعبے سے متعلق اہم فیصلوں میں جی 7 ممالک نے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے اور توانائی کی فراہمی کے متبادل ذرائع کو تیزی سے فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ عالمی توانائی منڈیوں کے استحکام کے لیے سپلائی روٹس کو متنوع بنانا ناگزیر ہے تاکہ کسی ایک گزرگاہ یا خطے پر حد سے زیادہ انحصار سے پیدا ہونے والے خطرات کم کیے جا سکیں۔
اعلامیے میں آزاد بحری آمدورفت کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا اور کہا گیا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں بغیر کسی رکاوٹ، محصول یا پابندی کے جہاز رانی کا تسلسل عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے ضروری ہے۔ جی 7 رہنماؤں نے اس مقصد کے لیے بین الاقوامی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
علاوہ ازیں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے اجلاس کے شرکاء نے لبنان میں فوری اور مستقل جنگ بندی کی حمایت کی اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی اور سیاسی حل کی جانب پیش رفت کے لیے اقدامات کریں۔ مبصرین کے مطابق جی 7 کا یہ مشترکہ مؤقف نہ صرف یوکرین جنگ بلکہ مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی سلامتی کے حوالے سے بھی آنے والے مہینوں میں بین الاقوامی پالیسیوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
