برسلز: شمالی افریقہ میں اسپین کے خودمختار علاقے سیوٹا میں 50 ہزار سے زائد تارکین وطن کی آمد کے بعد پیدا ہونے والے بحران پر یورپی یونین نے منگل کو وزرائے داخلہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں رکن ممالک ہجرت سے متعلق مشترکہ پالیسی اور سرحدی انتظام پر غور کریں گے۔
یہ فیصلہ یورپی یونین کے رکن ممالک کے نمائندہ حکام اور فرنٹیکس (Frontex) بارڈر ایجنسی کے ماہرین کے اجلاس میں کیا گیا، جہاں بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اسپین کے مطابق سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران کم از کم 67 تارکین وطن ہلاک ہوئے۔ بعض افراد سمندر میں ڈوب گئے جبکہ کئی بریک واٹر رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کے دوران بھگدڑ کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گئے۔
یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا اجلاس ایسے وقت میں بلایا گیا ہے جب رکن ممالک کے درمیان ہجرت اور سرحدی تحفظ کے معاملے پر اختلافات نمایاں ہو چکے ہیں۔ اجلاس میں مشترکہ یورپی مؤقف اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسپین نے اعلان کیا ہے کہ سیوٹا میں غیر قانونی آمد تقریباً رک گئی ہے، کیونکہ مراکش کی سرحد پر 500 میٹر طویل تیرتی ہوئی سمندری رکاوٹ نصب کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے تاکہ مزید غیر قانونی داخلے کو روکا جا سکے۔
برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ وہ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز سے مسلسل رابطے میں ہیں اور برطانیہ ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
ہفتے کو ہونے والے یورپی اجلاس میں اٹلی اور ڈنمارک نے، پولینڈ اور سویڈن کی جزوی حمایت کے ساتھ، اسپین کی سرحدی حکمت عملی پر تنقید کی، جس کے جواب میں وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے سخت ردعمل دیتے ہوئے "جعلی خبروں” اور "غلط معلومات” کی مذمت کی۔
سانچیز نے کہا کہ فوج کی مداخلت کے بعد صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے اور جمعہ تک 48 ہزار سے زائد تارکین وطن رضاکارانہ طور پر مراکش واپس جا چکے تھے، جس کے باعث براعظم یورپ کی جانب غیر قانونی نقل و حرکت تقریباً رک گئی۔
اجلاس کے دوران یورپی حکام نے ان اطلاعات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ روس مبینہ طور پر یورپی یونین کے اندر اختلافات کو ہوا دینے کے لیے غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے، اگرچہ اس حوالے سے کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ادھر سیوٹا کے صدر جوآن جیسس ویواس نے کہا کہ اگرچہ ہزاروں افراد واپس جا چکے ہیں، تاہم شہر میں اب بھی کئی ہزار تارکین وطن موجود ہیں، جس کے باعث صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں سکیورٹی کے تمام ضروری اقدامات برقرار رکھے گئے ہیں تاکہ مقامی آبادی کی حفاظت اور امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس بحران نے نہ صرف اسپین کی داخلی سیاست کو متاثر کیا ہے بلکہ یورپی یونین کے اندر ہجرت اور سرحدی تحفظ سے متعلق پالیسی اختلافات کو بھی ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
English Tags:
European Union, EU, Ceuta, Spain, Morocco, Migrants, Immigration, Refugees, Frontex, Pedro Sanchez, Interior Ministers, Border Security, Schengen, Europe, Migration Crisis

