پیرس: فرانس نے کریملن کی حامی روسی صحافی اور ٹی وی مبصر زینیا فیڈورووا کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق ان پر الزام ہے کہ وہ فرانسیسی ذرائع ابلاغ میں روسی حکومت کے بیانیے اور پروپیگنڈے کو فروغ دے رہی تھیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس میں غلط معلومات (Disinformation) پر نظر رکھنے والے ماہرین نے فیڈورووا کی سرگرمیوں پر پہلے ہی تشویش کا اظہار کیا تھا، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک میں آئندہ برس صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔
فرانسیسی اخبار لبریشن کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے بے دخلی کے فیصلے میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ زینیا فیڈورووا فرانس میں "امنِ عامہ کو غیر مستحکم کرنے” کے مقصد سے روسی حکام کی مبینہ غلط معلومات کی مہم کے لیے ایک ذریعہ بن رہی تھیں۔
زینیا فیڈورووا اس سے قبل روس کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی (RT) سے وابستہ رہ چکی ہیں۔ فرانس میں آر ٹی فرانس کو 2023 میں بند کر دیا گیا تھا، جو روس کے یوکرین پر حملے کے بعد یورپی پابندیوں کے تناظر میں اٹھایا گیا اقدام تھا۔
آر ٹی فرانس کی بندش کے بعد فیڈورووا نے فرانسیسی میڈیا میں بطور مبصر کام جاری رکھا۔ وہ قدامت پسند میڈیا گروپ سے وابستہ CNews ٹی وی، Europe 1 ریڈیو اور اخبار Le Journal du Dimanche میں باقاعدگی سے تبصرے اور کالم لکھتی رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان کے تجزیوں میں یوکرین جنگ اور مغربی ممالک کے حوالے سے ایسے مؤقف پیش کیے جاتے تھے جنہیں فرانسیسی حکام اور ماہرین روسی ریاستی بیانیے کے قریب قرار دیتے ہیں۔

