نیویارک: اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے اسرائیلی وزیرِ دفاع کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو دی گئی مبینہ دھمکی کے خلاف اقوامِ متحدہ میں باضابطہ احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے عالمی ادارے سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی سفیر نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کے نام ارسال کیے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے حالیہ بیانات ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کی منظم پالیسی کا حصہ ہیں، جسے انہوں نے ریاستی دہشت گردی قرار دیا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف اسرائیل کی حالیہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہیں۔ ایرانی مندوب نے الزام عائد کیا کہ ان کارروائیوں میں ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور یہ اقدامات بیرونی حمایت کے ساتھ انجام دیے گئے۔
امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو جوابدہی سے مستثنیٰ رکھنے کے باعث ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے، جس سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران کی خودمختاری، قیادت یا قومی سلامتی کے خلاف مزید کوئی دشمنانہ اقدام کیا گیا تو تہران اپنے دفاع کے حق کے تحت مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایرانی سفیر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے احترام کو یقینی بنانے، کشیدگی میں اضافے کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری دونوں ممالک کے درمیان مزید تصادم کے خدشات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
