تہران: ایران نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری آخری رسومات سے قبل امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی سرزمین، عوام یا قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا فوری، سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی نے سرکاری بیان میں کہا کہ ایران کی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی "غلط اندازے” کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں کو ایران کی دفاعی صلاحیت کو ہرگز کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سابق ایرانی سپریم لیڈر کی سرکاری نماز جنازہ میں شرکت کریں گے۔
چین نے بھی اعلان کیا ہے کہ نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی کے نائب چیئرمین ہی وی ایران میں ہونے والی آخری رسومات میں چینی وفد کی نمائندگی کریں گے۔
بھارت کی وزارت خارجہ کے مطابق بہار کے گورنر سید عطاء حسنین اور نائب وزیر خارجہ پبیترا مارگریٹا بھی ایران جائیں گے تاکہ سرکاری تعزیتی تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ بھارتی حکومت نے اپنے بیان میں دونوں ممالک کے تاریخی، تہذیبی اور عوامی روابط کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ایرانی حکام کے مطابق نماز جنازہ کی تقریبات 4 جولائی کو تہران سے شروع ہوں گی، جبکہ 9 جولائی کو مشہد میں تدفین کے ساتھ اختتام پذیر ہوں گی۔ اس دوران قم اور عراق کے مختلف مقدس شہروں میں بھی تعزیتی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی گزشتہ روز واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران کی قیادت یا عوام کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو تہران فوری اور بھرپور ردعمل دے گا۔ یہ بیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا تھا، جس میں انہوں نے ایران کی قیادت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آخری رسومات کے دوران غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تہران، مشہد اور دیگر اہم شہروں کی فضائی حدود پر عارضی پابندیاں نافذ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے تاکہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
