تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ علاقائی انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کرتے ہوئے بحری گزرگاہ کے ایک بڑے حصے پر اپنے انتظامی کنٹرول کا مطالبہ کر دیا ہے، جس سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اہم آبی راستے کے مستقبل کے انتظام پر اختلافات نمایاں ہو گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عمان نے تجویز دی تھی کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے لیے ایک ایسا راستہ مقرر کیا جائے جس کا 50 فیصد حصہ ایرانی علاقائی پانیوں اور باقی 50 فیصد عمانی پانیوں میں ہو۔
کاظم غریب آبادی کے مطابق تہران نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی رائے میں آبنائے ہرمز کے ایرانی حصے سے گزرنے والے بحری راستے کا انتظام تہران کے پاس ہونا چاہیے، جبکہ عمانی پانیوں سے گزرنے والے راستے کے ایک حصے کا انتظام بھی ایران کے کنٹرول میں ہونا چاہیے، نہ کہ مکمل طور پر عمان کے اختیار میں۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے عمان کو متبادل تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت ٹرانزٹ روٹ کا ایک حصہ ایرانی علاقائی حدود میں ہوگا، جبکہ عمانی پانیوں سے گزرنے والے حصے کے انتظام میں بھی ایران کا کردار شامل ہوگا۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر عمان نے تہران کی تجویز قبول نہ کی تو آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہ سکتی ہے۔
دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے بحری جہازوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظام سے متعلق فیصلے صرف ایران اور عمان کو اپنی اپنی علاقائی حدود کی بنیاد پر کرنے چاہییں۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ تہران عمان کو ایک قریبی اور قابلِ احترام ہمسایہ ملک سمجھتا ہے، تاہم آبنائے ہرمز میں عمان کا انتظامی اختیار صرف اس کے اپنے حصے تک محدود ہونا چاہیے۔

