Table of Contents
نئی دہلی: برکس ممالک نے غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
رہنماؤں نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسترد کر دی ہے۔
انہوں نے فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت بھی کی ہے۔
برکس سربراہی اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں غزہ کا ذکر کیا گیا۔
اعلامیے میں جغرافیائی تبدیلی کی مخالفت کی گئی۔
آبادیاتی تبدیلی کو بھی مسترد کیا گیا۔
برکس ممالک نے مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخی حیثیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کی۔
رہنماؤں نے تمام مقدس مقامات کے احترام کا مطالبہ کیا۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے پر زور
برکس ممالک نے اسرائیل اور حزب اللہ کے تنازع پر بھی بات کی۔
انہوں نے متعلقہ اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد پر زور دیا۔
رہنماؤں نے عالمی تنازعات کے خاتمے پر زور دیا۔
انہوں نے تنازعات کی بنیادی وجوہات حل کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔
اعلامیے میں مذاکرات کو اہم قرار دیا گیا۔
رہنماؤں نے سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا۔
جوہری جنگ کے خطرے پر تشویش
برکس ممالک نے جوہری جنگ کے بڑھتے خطرے پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے جنگ کے دوران جوہری تنصیبات کی حفاظت پر زور دیا۔
رہنماؤں نے جوہری تنصیبات کی سلامتی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
برکس ممالک نے یکطرفہ تجارتی پابندیوں پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے محصولات میں اضافے کی بھی مخالفت کی۔
رہنماؤں نے تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت دہرائی۔
شی جن پنگ کا مشرق وسطیٰ کے بارے میں مؤقف
چینی صدر شی جن پنگ نے برکس اجلاس سے خطاب کیا۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ کی جنگ پر تشویش ظاہر کی۔
شی جن پنگ کے مطابق جنگ سے خطے کے عوام کو بھاری نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے جنگ کے جاری رہنے کو عالمی مفاد کے خلاف قرار دیا۔
چینی صدر نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے خلیج میں کشیدگی بڑھانے سے بھی گریز کا مطالبہ کیا۔
شی جن پنگ نے چین کے کردار کی پیشکش بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ چین برکس ممالک کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔
ان کے مطابق مقصد مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام ہے۔
برکس ممالک کے کردار پر زور
شی جن پنگ نے برکس ممالک کو اہم کردار ادا کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کا کہا۔
چینی صدر نے امن اور استحکام کے لیے قائدانہ کردار کی بات کی۔
انہوں نے برکس ممالک کو تاریخ کے فیصلوں پر قائم رہنے کا مشورہ دیا۔
شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو نقصان دہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کا تسلسل عالمی برادری کے مفاد میں نہیں۔
