Table of Contents
نئی دہلی: برکس ممالک نے مشترکہ اعلامیے کے مسودے پر اتفاق کرلیا ہے۔
چار ذرائع نے رائٹرز کو اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
یہ اتفاق نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے ہوا۔
رہنماؤں سے ہفتے کو اعلامیے کی منظوری متوقع تھی۔
اعلامیے میں یکطرفہ جنگ کی مذمت
ذرائع کے مطابق اعلامیے میں کسی ملک کا نام شامل نہیں ہوگا۔
تاہم، اس میں کسی بھی ملک کی جانب سے یکطرفہ جنگ کی مذمت کی جائے گی۔
مذاکرات میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اہم رکاوٹ بنی رہی۔
خاص طور پر ایران اور متحدہ عرب امارات کے مؤقف میں اختلافات نمایاں تھے۔
دونوں ممالک خطے میں جاری تنازع کے مختلف فریقوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
مذاکرات کاروں نے ان اختلافات کو دور کرنے کے لیے کئی مراحل میں بات چیت کی۔
مئی میں مشترکہ بیان جاری نہیں ہوسکا تھا
برکس وزرائے خارجہ کا اجلاس مئی میں نئی دہلی میں ہوا تھا۔
اس اجلاس میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے اختلافات نمایاں رہے۔
ان اختلافات کے باعث وزرائے خارجہ مشترکہ بیان جاری نہیں کرسکے تھے۔
حالیہ مذاکرات میں اسی مسئلے کا حل تلاش کرنے پر توجہ دی گئی۔
رائٹرز کے مطابق مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کو بلاک کے لیے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
برکس کا عالمی کردار بڑھانے کا منصوبہ
برکس اپنے عالمی کردار کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
گروپ عالمی مالیاتی اور سیاسی اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔
اس میں عالمی بینک، آئی ایم ایف اور عالمی تجارتی تنظیم بھی شامل ہیں۔
کئی رکن ممالک ان اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بڑھانے کے حامی ہیں۔
برکس رکن ممالک کے درمیان تجارت اور مالی تعاون بڑھانے پر بھی زور دے رہا ہے۔
بھارت نے اپنی 2026 کی صدارت میں تعاون، جدت اور پائیدار ترقی پر توجہ دی ہے۔
نئی دہلی میں اہم رہنماؤں کی شرکت
نئی دہلی میں 12 اور 13 ستمبر کو برکس سربراہی اجلاس ہو رہا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن، چینی صدر شی جن پنگ اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اجلاس میں شریک ہیں۔
جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا بھی اجلاس میں موجود ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی نمائندگی ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کر رہے ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں۔
نئی دہلی امریکہ، روس، ایران، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
برکس کی رکنیت
برکس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔
مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات بھی اس گروپ کا حصہ ہیں۔
بھارتی حکومت کے مطابق سعودی عرب بھی برکس کی موجودہ رکن فہرست میں شامل ہے۔
برکس کی توسیع نے گروپ کے معاشی اور سیاسی اثرات میں اضافہ کیا ہے۔
تاہم، رکن ممالک کے درمیان خارجہ پالیسی کے اختلافات اب بھی ایک اہم چیلنج ہیں۔
نئی دہلی اجلاس میں مشترکہ اعلامیے پر اتفاق اسی چیلنج سے نمٹنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
