ایران کی وزارت خارجہ نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو امریکا یا اسرائیل کی کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں، بصورت دیگر تہران ایسی معاونت کو دشمنانہ اقدام تصور کرے گا۔
وزارت خارجہ کے مطابق ایران کی مسلح افواج نے امریکی کارروائیوں کے جواب میں اپنے دفاع کے جائز حق کا استعمال کیا اور خطے میں موجود بعض امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ تہران نے واضح کیا کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے کا جواب دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا کی حالیہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کے واقعے کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔
ایران نے اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ امریکی حملوں کے معاملے پر واشنگٹن کو جوابدہ ٹھہرائے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کرے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو تنازع کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ بیان میں زور دیا گیا کہ موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور تمام پڑوسی ممالک کو کشیدگی میں اضافے کے بجائے امن، استحکام اور سفارتی حل کی حمایت کرنی چاہیے۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی سخت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکا محفوظ رہنا چاہتا ہے تو اسے خطے سے نکل جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اقدامات کے باوجود ایران کی قوتِ ارادی کمزور نہیں ہوگی اور ایرانی مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا بھرپور جواب دیں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تہران اب صرف فوجی نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی خطے کے ممالک پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ امریکی اور اسرائیلی عسکری سرگرمیوں کے لیے علاقائی تعاون محدود کیا جا سکے۔
