واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ فوجی محاذ آرائی کے دوران امریکا کے جنگی سازوسامان میں کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ گولہ بارود موجود ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، "ہمارے پاس دنیا کے کسی بھی شخص سے کہیں زیادہ گولہ بارود ہے، اور ہماری ضرورت سے بھی زیادہ موجود ہے۔”
امریکی صدر نے اس کے ساتھ ہی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر متعدد تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحری اثاثوں سے متعلق پیغامات شامل تھے۔

شیئر کی گئی تصاویر میں ایک مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تصویر بھی شامل تھی، جس میں جنگی طیاروں کو ایک تیل کی تنصیب پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور اس پر "Attack on Kharg” کی عبارت درج تھی، جو ایران کے جزیرہ کھرگ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

ٹرمپ نے بعد ازاں مزید تصاویر بھی پوسٹ کیں جن پر "This is now our oil tanker!” کا عنوان درج تھا۔ ان تصاویر میں بظاہر امریکی پرچم کے ساتھ ایرانی آئل ٹینکر کی AI سے تیار کردہ منظرکشی دکھائی گئی، جبکہ بعض تصاویر میں امریکی فوجیوں اور ایرانی مذہبی رہنماؤں کی فرضی عکاسی بھی شامل تھی۔
ایک اور پوسٹ میں "No more engine” کے عنوان کے ساتھ ایک ایرانی جہاز کو تباہ ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ان تصاویر کو کسی سرکاری فوجی منصوبے یا پالیسی کا حصہ قرار نہیں دیا گیا، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا ان پوسٹس کا مقصد صرف سیاسی پیغام دینا تھا یا ان کا تعلق کسی عملی حکمت عملی سے ہے۔

