یروشلم: اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے غزہ میں محدود پیمانے پر بین الاقوامی استحکام فورس (International Stabilization Force – ISF) کے داخلے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام بورڈ آف پیس کے زیر قیادت مجوزہ پائلٹ منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد غزہ میں ایک انسانی امدادی زون کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق کابینہ نے منصوبے کے حق میں ووٹ دیا، تاہم قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے اس کی مخالفت کی، جبکہ وزیر خارجہ گدعون ساعر نے حمایت میں ووٹ دیا۔ حکام نے ابھی تک فورس کی تعیناتی کے حتمی شیڈول یا دیگر عملی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
منصوبے کے مطابق بین الاقوامی استحکام فورس کے اہلکار ابتدائی مرحلے میں غزہ میں قائم کیے جانے والے پائلٹ انسانی امدادی زون کی سرحدوں پر تعینات ہوں گے۔ اس زون کا تصور جنوبی غزہ کے شہر رفح میں کیا گیا ہے، جہاں سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد بین الاقوامی فورس سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔
اس منصوبے کے تحت غزہ کے بعض شہریوں کو حماس کے زیرِ انتظام علاقوں سے محفوظ انسانی زون میں منتقل کرنے کا انتظام بھی شامل ہے، جبکہ اس کے ساتھ امریکی حمایت یافتہ غزہ کے لیے مجوزہ 20 نکاتی فریم ورک کے مختلف پہلوؤں پر بھی کام جاری ہے۔
بورڈ آف پیس کے ایک عہدیدار کے مطابق گزشتہ ہفتے غزہ کے لیے بورڈ کے اعلیٰ نمائندے نکولے ملاڈینوف اور خصوصی مشیر آریہ لائٹ اسٹون نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کر کے منصوبے کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے ایسے اقدامات پر بھی غور کیا جن میں غزہ میں داخل ہونے والی بعض دوہری استعمال (Dual-use) انسانی امدادی اشیا پر پابندیوں میں نرمی، بین الاقوامی استحکام فورس میں شریک ممالک کے فوجیوں کے غزہ میں داخلے کے انتظامات، اور مجوزہ فلسطینی پولیس فورس کی جانچ پڑتال اور تعیناتی سے متعلق تجاویز شامل تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ اسرائیل میں متوقع انتخابات اور موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث اس منصوبے پر عملدرآمد کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے، تاہم دونوں فریق منظوری اور انتظامی مراحل کو آگے بڑھانے کے لیے رابطے میں ہیں۔
دوسری جانب حماس اب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق مجوزہ 20 نکاتی منصوبے کے تحت غیر مسلح ہونے کی تجویز قبول نہیں کر سکی، جس کے باعث منصوبے کے بعض اہم حصوں پر پیش رفت بدستور پیچیدہ بنی ہوئی ہے۔

