واشنگٹن: امریکی ریاست مشی گن سے سینیٹ کی نشست کے لیے جاری ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخابی مقابلے میں اسرائیل نواز لابی AIPAC کے کردار پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا، جہاں اعتدال پسند امیدوار ہیلی سٹیونز نے اپنے ترقی پسند حریف عبدالسید پر یہودی امریکیوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔
تنازع اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر عبدالسید کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں وہ AIPAC کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر وہ ان کے خلاف انتخابی مہم چلانا چاہتی ہے تو ضرور کرے۔
عبدالسید نے اپنے خطاب میں کہا کہ AIPAC نے ان کی حریف ہیلی سٹیونز کی حمایت کی ہے اور امریکی سیاست میں غیر ملکی مفادات سے وابستہ مالی اثرورسوخ پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام سیاست میں ایسے پیسے کی مداخلت نہیں چاہتے جو کسی غیر ملکی حکومت سے منسلک مفادات کی نمائندگی کرے۔
اس بیان کے جواب میں ہیلی سٹیونز نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عبدالسید اپنے تمام مسائل کا ذمہ دار یہودی امریکیوں کو ٹھہرانا چاہتے ہیں۔ سٹیونز، جو خود یہودی نہیں ہیں، نے دعویٰ کیا کہ امریکی عوام اس طرز کے بیانیے کو قبول نہیں کریں گے۔
عبدالسید نے اپنے بیان میں براہِ راست AIPAC کے سیاسی کردار اور انتخابی اخراجات پر تنقید کی تھی، جبکہ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تنقید بعض اوقات یہودی امریکیوں کے خلاف عمومی تاثر پیدا کر سکتی ہے۔ دوسری جانب عبدالسید اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان کی تنقید صرف ایک سیاسی لابی کے اثرورسوخ تک محدود ہے، نہ کہ کسی مذہبی یا نسلی برادری کے خلاف۔
مشی گن میں سینیٹ کی یہ انتخابی مہم اسرائیل، غزہ اور امریکی خارجہ پالیسی جیسے موضوعات کے باعث پہلے ہی خاصی توجہ حاصل کر چکی ہے، اور AIPAC کے کردار پر بحث انتخابی مہم کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔

