واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران دوبارہ مذاکرات اور معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا کہ آیا تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے کی پاسداری کرے گا یا نہیں۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ "ایران نے کچھ دیر پہلے رابطہ کیا، وہ بری طرح معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ واقعی معاہدہ کرنے کے قابل ہیں یا اس کا احترام کریں گے۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔”
جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر ایران واقعی معاہدہ چاہتا ہے تو پھر امریکا کے مطابق تجارتی جہازوں پر حملوں جیسے اقدامات کیوں کیے جا رہے ہیں، تو ٹرمپ نے کہا کہ "وہ کچھ حد تک قابو سے باہر ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اور بہت زیادہ چاہتے ہیں۔”
امریکی صدر نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے امریکی مفادات یا اہداف پر حملہ کیا تو امریکا اس کا انتہائی سخت جواب دے گا۔
انہوں نے کہا، "اگر انہوں نے ہمیں ایک بار نشانہ بنایا تو ہم انہیں بیس گنا جواب دیں گے۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ اس بات کا یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ موجودہ صورتحال مکمل فوجی تصادم کی طرف بڑھے گی یا دوبارہ سفارتی سرگرمیاں بحال ہوں گی، تاہم ان کے مطابق حالات اب بھی غیر یقینی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور اس کے بعد دونوں ممالک کی فوجی کارروائیوں کے باعث مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ خطے میں جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کا مستقبل بھی غیر واضح دکھائی دے رہا ہے۔
