تہران/واشنگٹن: امریکا نے ایران کے مختلف ساحلی علاقوں پر ایک مرتبہ پھر فضائی حملے کیے ہیں، جن کی امریکی فوج نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تازہ کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو درپیش خطرات کو کم کرنا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق اضافی حملے ایران کی ان صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے کیے گئے ہیں جنہیں واشنگٹن آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بندر عباس، سریک، کونارک، چاہ بہار اور جزیرہ ابو موسیٰ سمیت متعدد ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ چاہ بہار کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہو گئی۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ چاہ بہار میں ہونے والے ایک حملے کے دوران ایک پروجیکٹائل کا ٹکڑا امام علی اسپتال پر بھی گرا، تاہم اس سے ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی سرکاری سطح پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق صوبہ بوشہر میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بوشہر کے جوہری بجلی گھر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
اس سے قبل منگل اور بدھ کی درمیانی شب امریکا نے جنوبی ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ ایران کی مسلح افواج نے ان حملوں میں اپنی فضائیہ اور بحریہ کے 8 اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کی تھی۔
ایرانی فوج کے مطابق شہید اہلکار بندر عباس اور بوشہر میں فوجی تنصیبات پر امریکی حملوں کے دوران ملک کا دفاع کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے تھے۔
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔
