واشنگٹن، امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی پیشگی منظوری لازمی قرار دینے کی قرارداد ایک ووٹ کے معمولی فرق سے مسترد کر دی۔
ووٹنگ کے دوران قرارداد کے حق میں 49 جبکہ مخالفت میں 50 ووٹ ڈالے گئے، جس کے باعث یہ قرارداد منظور نہ ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق ووٹنگ کے دوران تین ری پبلکن سینیٹرز نے اپنی جماعت سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کے ساتھ قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ایک ڈیموکریٹ سینیٹر نے ری پبلکن ارکان کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی یا جنگ میں امریکہ کی شمولیت سے قبل کانگریس کی واضح منظوری حاصل کرنا لازمی قرار دیا جائے، تاہم سینیٹ نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔
یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور حالیہ دنوں میں امریکی فضائی حملوں اور ایرانی ردعمل کے باعث خطے کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
قرارداد مسترد ہونے کے بعد امریکی انتظامیہ کو ایران سے متعلق عسکری فیصلوں کے حوالے سے کانگریس کی منظوری لازمی قرار دینے کی کوشش کو سینیٹ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اس معاملے پر سیاسی تقسیم بھی واضح طور پر سامنے آئی۔

