اسلام آباد، 30 جولائی 2026: جمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نے ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں وفد نے سربراہ پاک فضائیہ، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دفاعی تعاون، عسکری روابط، مشترکہ تربیت، دفاعی صنعت اور جدید فضائی و خلائی ٹیکنالوجیز میں شراکت داری کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بیلاروسی وفد کی قیادت مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف اور دفاع کے پہلے نائب وزیر، میجر جنرل مراویکو پاویل نکولایووچ کر رہے تھے۔ دونوں فریقین نے پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دیرینہ دفاعی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے معزز وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے پاک فضائیہ کی جدید خطوط پر استوار حکمت عملی، خودانحصاری پر مبنی منصوبوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مشترکہ تربیت، تکنیکی اشتراک، دفاعی و صنعتی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی میں شراکت داری کو مزید وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی فضائی افواج کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں، تربیتی پروگراموں اور تکنیکی و آپریشنل تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا تاکہ باہمی دفاعی استعداد میں اضافہ ہو سکے۔
بیلاروسی وفد کے سربراہ میجر جنرل مراویکو پاویل نکولایووچ نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، آپریشنل تیاری، جدید تکنیکی استعداد اور خودانحصاری پر مبنی اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے پاک فضائیہ کو جدید فضائی افواج کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل قرار دیتے ہوئے دفاع، فضائی و خلائی شعبوں اور عسکری تربیت میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
وفد نے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (NASTP) کے ساتھ مشترکہ منصوبوں میں بھی خصوصی دلچسپی ظاہر کی اور اسے تحقیق، اختراع اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک انقلابی مرکز قرار دیا، جو مستقبل کی فضائی و خلائی صنعت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ عسکری شراکت داری کے مزید استحکام کی عکاسی کرتا ہے اور اس امر کا اظہار ہے کہ پاکستان اور بیلاروس دفاع، ہوا بازی، جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کے شعبوں میں اپنے دوطرفہ تعاون کو نئی جہت دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔

