اسلام آباد، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور اگر بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو آئندہ دس برس بعد بھی ملک انہی مسائل سے دوچار ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت ہر ممکن طور پر مکمل کرے گی، جبکہ ملک کی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس، سیاسی اتفاقِ رائے اور نظام کو ازسرِنو منظم کرنا ناگزیر ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ پہلی پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وہ عموماً سیاسی گفتگو سے گریز کرتے ہیں، تاہم موجودہ حالات میں چند سیاسی حقائق بیان کرنا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے نمائندے اپنے اپنے مسائل بیان کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاست میں آئے انہیں تقریباً ساڑھے تین سال ہو چکے ہیں اور ان کے تجربے کے مطابق اگر نظام میں بنیادی تبدیلیاں نہ لائی گئیں تو دس سال بعد بھی یہی مسائل زیرِ بحث ہوں گے۔
محسن نقوی نے کہا، "جس سسٹم میں ہم رہ رہے ہیں، آپ مانیں یا نہ مانیں، یہ سسٹم منہدم ہو چکا ہے۔ جس دن ہم سب نے اسے ٹھیک کرنے کا فیصلہ کر لیا، اسی دن اصلاحات کا عمل شروع ہو جائے گا۔”
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ جمہوریت کے مضبوط حامی ہیں، تاہم جمہوریت کے اندر بھی مختلف انتظامی ماڈلز موجود ہیں اور پاکستان کو اپنی ضروریات کے مطابق مؤثر نظام اپنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو انصاف، روزگار، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتیں درکار ہیں، لیکن موجودہ نظام یہ سہولتیں فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق آج بھی لوگ معمولی مقدمات کے لیے کئی کئی گھنٹے سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
محسن نقوی نے زور دیا کہ ملکی ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں صوبے کہا جائے یا کوئی اور نام دیا جائے، لیکن انتظامی سطح پر اختیارات کی تقسیم وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی میسر آ سکے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو صرف لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس یا مالی مراعات دے کر مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ نوجوان شفاف نظام، میرٹ پر روزگار اور مساوی مواقع چاہتے ہیں۔ اگر بنیادی مسائل حل نہ کیے گئے تو مستقبل میں مزید چیلنجز پیدا ہوں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر نئے صوبوں، انتظامی اصلاحات اور دیگر قومی مسائل پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ ان کی ذاتی رائے میں صرف حکومتی جماعتیں ہی نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت تمام سیاسی قوتوں کو بھی قومی اصلاحات کے عمل میں شریک ہونا چاہیے۔
بعد ازاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں محسن نقوی نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ انہوں نے وزیر خارجہ بننے سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا، "میں وفاقی وزیر داخلہ ہی رہوں گا، وزیر خارجہ نہیں جا رہا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ جمہوری نظام کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اگرچہ عالمی سطح پر پاکستان کے تعلقات بہتر بنائے جا رہے ہیں، لیکن داخلی نظام کی اصلاح کے بغیر ان کوششوں کے مکمل ثمرات حاصل نہیں ہو سکتے۔
سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین یونائیٹڈ بزنس گروپ ایس ایم تنویر نے کہا کہ اگر کاروباری برادری کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو پاکستان کی برآمدات 100 ارب ڈالر سے بڑھ کر 200 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ انہوں نے پالیسیوں کے تسلسل، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور معاشی اصلاحات کو ملکی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

