وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا سوئٹزرلینڈ کا مجوزہ دورہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد آئندہ مرحلے کے مذاکرات متوقع ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق جے ڈی وینس آج رات سوئٹزرلینڈ روانہ نہیں ہو رہے اور ان کے دورے کا نیا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکی انتظامیہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کے جلد آغاز کی منتظر ہے۔
واضح رہے کہ امریکی نائب صدر کی سوئٹزرلینڈ روانگی ایسے وقت میں متوقع تھی جب امریکا، ایران، پاکستان، قطر اور دیگر متعلقہ ممالک کے حکام سوئٹزرلینڈ میں آئندہ مذاکراتی عمل کے لیے جمع ہونے والے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد جامع معاہدے کے لیے فریم ورک کو آگے بڑھانا ہے۔
اس سے قبل جے ڈی وینس نے ایک بیان میں اسرائیل کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کے زیر استعمال بیشتر ہتھیار امریکا فراہم کرتا ہے اور گزشتہ تین ماہ کے دوران اسرائیل کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے تقریباً دو تہائی ہتھیار امریکی ہاتھوں سے تیار کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ان ہتھیاروں کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان ادا کرتے ہیں اور جو لوگ امریکی صدر کو مسئلہ قرار دیتے ہیں انہیں حقائق کا ادراک کرنا چاہیے۔
امریکی نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ محض طاقت اور تشدد کے ذریعے قومی سلامتی کے تمام مسائل حل نہیں کیے جا سکتے، جسے مبصرین نے مشرق وسطیٰ کے حالیہ بحرانوں اور اسرائیلی قیادت کے لیے ایک اہم پیغام قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جے ڈی وینس کی روانگی میں تاخیر اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ واشنگٹن پہلے تکنیکی اور سفارتی سطح پر بعض امور کو حتمی شکل دینا چاہتا ہے، جس کے بعد اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا نیا شیڈول ترتیب دیا جائے گا۔
