نئی دہلی: بھارت میں امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک، تعلیمی بدعنوانی اور بے روزگاری کے خلاف نوجوانوں کی "کاکروچ جنتا پارٹی” کے زیر اہتمام احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے، جبکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچہ لیک میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی وزیرِ اعظم کے اعلان پر ردِعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان اشوتوش رانکا نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ بعد معاملے کا نوٹس لینا خوش آئند ضرور ہے، لیکن یہ اقدامات ناکافی ہیں۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ پیپر لیک کے واقعات بار بار کیوں پیش آ رہے ہیں۔
اشوتوش رانکا نے الزام عائد کیا کہ تعلیمی نظام میں نااہلی اور بدعنوانی کی وجہ سے امتحانی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے، احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی اپنی ساکھ کھو چکے ہیں اور ان کی حکومت نے تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پارٹی نے طلبہ کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے وزیرِ تعلیم سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی صدر ابھیجیت دیپکے نے نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ احتجاج کو بدنام کرنے کے لیے بی جے پی سے وابستہ افراد کو بھیجا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ سے جاری دھرنے کے دوران کوئی پرتشدد واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم احتجاج زور پکڑنے پر مظاہرین کے خلاف پتھراؤ کروا کر تحریک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پولیس احتجاجی مقامات کے قریب پتھروں سے بھرے ٹرک لاتی ہے، جس کے بعد مبینہ طور پر بی جے پی کے کارکن آ کر پتھراؤ کرتے ہیں۔ ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ اگر حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے تو مظاہرین بھی بات چیت کے لیے آمادہ ہیں، تاہم احتجاج کو بدنام کرنے کی کوششیں بند ہونی چاہئیں۔

