ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیبات نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی معاہدے یا مذاکرات میں مخالف فریق کے وعدوں پر اعتماد نہیں کرے گا اور صرف عملی اقدامات کو ہی بنیاد بنایا جائے گا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جب تک دوسرا فریق ٹھوس عملی اقدامات نہیں اٹھاتا، ایران بھی کسی نئے قدم کی طرف نہیں بڑھے گا۔ ان کے مطابق ایران کے لیے معاہدے یا بات چیت سے زیادہ اہمیت زمینی حقائق اور عملی یقین دہانیوں کی ہے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی قوم کو یہ درس دیا ہے کہ دھمکیوں کے سامنے ہرگز نہ جھکا جائے، اور قومی خودمختاری و حقوق کے تحفظ کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔ ان کے مطابق کسی بھی معاہدے کو اس وقت تک قبول نہیں کیا جا سکتا جب تک ایرانی قوم کے بنیادی حقوق محفوظ نہ ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو تقسیم کرنے والی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے، اور سیاسی و فکری اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو ترجیح دینا وقت کی ضرورت ہے۔
ایرانی اسپیکر کے مطابق دشمن مختلف ذرائع، خصوصاً اقتصادی دباؤ اور میڈیا وار کے ذریعے معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ایرانی قوم ان سازشوں کے مقابل متحد ہے۔
