بیجنگ: چین کے شینژو-23 خلائی مشن کے تین رکنی عملے نے خلائی اسٹیشن پر اپ گریڈ شدہ مدار میں کمیت (Mass) ناپنے والے جدید آلے کا کامیاب تجربہ مکمل کر لیا، جبکہ خلا میں ان کے قیام کو تقریباً 50 دن مکمل ہونے والے ہیں۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی (CMSA) نے بتایا ہے کہ خلا باز ژو یانگ ژو، ژانگ ژی یوان اور لی جیا ینگ نے گزشتہ ہفتے خلائی حیاتیاتی علوم، انسانی جسم اور اعصابی نظام سے متعلق متعدد سائنسی تجربات بھی انجام دیے۔
ایجنسی کے مطابق پٹھوں اور ہڈیوں پر خلائی ماحول کے اثرات جانچنے کے لیے خلا بازوں نے مختلف بوجھ کی حالتوں میں دوڑنے، مزاحمتی ورزش، پاؤں کے دباؤ کی پیمائش، ٹانگوں کی بائیومکینیکل جانچ اور پٹھوں و ٹینڈن کے تجزیے کیے۔ ان تجربات سے حاصل ہونے والا ڈیٹا سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ مائیکرو گریویٹی میں انسانی جسم کے عضلات اور ٹینڈن کس طرح متاثر ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ خلا بازوں نے Near-Infrared Brain Imaging آلات کی مدد سے اعصابی افعال سے متعلق بھی تجربات کیے۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا ہے کہ خلائی ماحول انسانی دماغ، ذہنی کارکردگی اور ادراکی صلاحیتوں پر کس حد تک اثر انداز ہوتا ہے۔
خلانوردوں نے بے وزنی کے منفی جسمانی اثرات سے بچاؤ کے لیے اپنی روزانہ کی جسمانی ورزش کا سلسلہ بھی برقرار رکھا، جو طویل المدتی خلائی مشنز کے دوران جسمانی صحت برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ چین نے 24 مئی کو شینژو-23 خلائی جہاز روانہ کیا تھا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد خلا میں ایک سالہ طویل قیام کے لیے ضروری سائنسی اور طبی معلومات جمع کرنا ہے، جو مستقبل میں گہرے خلائی مشنز اور انسانوں کی طویل مدت تک خلاء میں موجودگی کے لیے اہم ثابت ہوں گی۔
