وفاقی آئینی عدالت نے بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات شہریوں کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court Pakistan) نے بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کالوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
تفصیلی فیصلے میں جسٹس Aamer Farooq نے قرار دیا کہ وکلا کی ہڑتالیں شہریوں کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ ایسی ہڑتالیں نہ صرف سائلین کو قانونی نمائندگی سے محروم کرتی ہیں بلکہ عدالتی نظام پر مزید دباؤ بھی ڈالتی ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب ہڑتال کی کال دی جاتی ہے تو وکلا کو عدالتوں میں پیش ہونے سے روکا جاتا ہے، جس کے باعث مقدمات بغیر کسی پیش رفت کے ملتوی ہو جاتے ہیں۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ پاکستان کا عدالتی نظام پہلے ہی مقدمات کے بوجھ تلے دباؤ کا شکار ہے اور سائلین کو برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ چاہے وکلا کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، یہ مسئلے کا حل نہیں اور انصاف تک رسائی سے کسی بھی صورت میں محروم کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ وکلا کی ہڑتالوں کے نتیجے میں نہ صرف عدالتی عمل متاثر ہوتا ہے بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔
عدالت نے وکیل کے لائسنس کی معطلی سے متعلق کیس میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے لائسنس بحال کرنے کے حکم کو درست قرار دیا۔
