اسلام آباد: پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تجارت، علاقائی روابط اور سرحد پار نقل و حمل کو فروغ دینے کے لیے ریل اور روڈ کنیکٹیویٹی کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے پاکستان ایران مشترکہ ٹرانسپورٹ کمیٹی کو مکمل طور پر فعال بنانے اور لاجسٹکس سے متعلق مسائل کے فوری حل کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
یہ اتفاقِ رائے اسلام آباد میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران ہوا، جس میں ایران کی وزیر ٹرانسپورٹ فرزانہ صادق اور پاکستان کے وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے اپنے اپنے وفود کی قیادت کی۔ پاکستانی وفد میں وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، وزیر تجارت جام کمال خان اور وزیر بحری امور جنید انور چوہدری بھی شریک تھے۔
اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان سڑک اور ریل رابطوں کو مزید مؤثر بنانے، تجارتی راہداریوں کو فعال کرنے اور سرحدی نقل و حمل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے مختلف اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط زمینی روابط سے نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ خطے میں اقتصادی تعاون اور علاقائی رابطوں کو بھی نئی تقویت ملے گی۔
مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے سرحدی گزرگاہوں پر ٹرکوں اور کنٹینرز کی کلیئرنس میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سامان کی بلا تعطل نقل و حرکت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس پر پاکستانی حکام نے یقین دہانی کرائی کہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس سے متعلق تمام رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے گا۔
دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان ایران مشترکہ ٹرانسپورٹ کمیٹی کو دوبارہ فعال کر کے زیر التوا ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک معاملات کو تیزی سے حل کیا جائے گا تاکہ سرحد پار تجارتی سرگرمیوں میں مزید سہولت پیدا ہو سکے۔
اس موقع پر وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے خطے میں امن و استحکام کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایرانی عوام کے حوصلے اور استقامت کو سراہا، جبکہ ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ فرزانہ صادق نے علاقائی کشیدگی میں کمی اور حالیہ امن عمل میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک نے سرحدی نقل و حمل کے بقایا مسائل کے فوری حل، دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ اور علاقائی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
