Table of Contents
اسلام آباد: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردوں سے کسی قسم کی بات چیت کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد یا تو ہتھیار ڈالیں گے یا پھر سکیورٹی فورسز انہیں انجام تک پہنچائیں گی۔
اسلام آباد میں سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ اور دیگر آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران 2 ہزار 84 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 819 سکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں 31 ہزار 80 اور خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 177 آپریشنز کیے گئے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں 2 ہزار 91 کارروائیاں کی گئیں۔ ان کے مطابق رواں برس 28 بم دھماکوں کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں کئی حملوں میں افغان شہری ملوث پائے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 322 پاکستانی شہری دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہوئے اور ریاست دہشت گردی کے خاتمے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو اب یہ پیغام مل چکا ہے کہ ریاست ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی۔
بلوچستان میں منفی پروپیگنڈا اور سرداری نظام پر تنقید
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے منظم انداز میں منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے برابر ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سردار اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے دہشت گردی کی پشت پناہی کرتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ بلوچستان کے نوجوان تعلیم، ٹیکنالوجی اور ترقی کی جانب آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر چاہتے ہیں کہ غریب عوام ہمیشہ پسماندہ رہیں تاکہ ان کا اثر و رسوخ برقرار رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گرد مزدوروں، اساتذہ، بچوں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ بلوچستان کی ترقی کا عمل متاثر ہو۔ ان کے مطابق متعدد سردار اسمگلنگ، غیرقانونی تجارت اور لیویز فورس کو ذاتی طاقت کے طور پر استعمال کرنے کے عادی رہے ہیں۔
بھارت اور افغان طالبان پر الزامات
ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام لگایا کہ بھارت اور افغان طالبان دہشت گرد عناصر کی معاونت کر رہے ہیں اور بھارتی میڈیا ان گروہوں کے بیانیے کو فروغ دیتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ "فتنہ الہندوستان” کے سرپرست بھارت میں موجود ہیں، جبکہ افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔ ان کے مطابق دہشت گرد خواتین کو ہنی ٹریپ کے ذریعے استعمال کرتے ہیں اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گڈ گورننس قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار
محسن نقوی کے حالیہ بیانات سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ کی ذاتی رائے ہے اور فوج اس پر تبصرہ نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے گڈ گورننس ناگزیر ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات میں سے 13 کا تعلق بہتر حکمرانی سے ہے، تاہم ان پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے سے مسائل برقرار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی گزشتہ کئی دہائیوں میں تقریباً چار گنا بڑھ چکی ہے جبکہ انتظامی ڈھانچہ بڑی حد تک وہی ہے، اس لیے نئے انتظامی یونٹس اور بہتر حکمرانی پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی مسائل مؤثر انداز میں حل کیے جا سکیں۔
انسدادِ منشیات اور ترقیاتی منصوبے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ رواں سال اب تک 18 ارب روپے مالیت کی منشیات ضبط کی جا چکی ہیں جبکہ 4 ہزار 500 افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں شاہراہیں، پانی کے ذخائر، نہریں، صحت اور تعلیم کے منصوبے شامل ہیں۔ ان کے مطابق حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
کشمیر اور پاک سعودی تعلقات
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا، جبکہ کشمیری عوام آج بھی پاکستان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات خصوصی نوعیت کے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعاون مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔

