Table of Contents
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف سکیم کا مقصد تیل کی قیمتوں میں اضافے سے متاثرہ مستحق افراد کو فوری ریلیف دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سکیم میں بڑی گاڑیوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیاں سکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گی۔
عطاء اللہ تارڑ نے یہ بات وفاقی وزراء شزہ فاطمہ خواجہ اور علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہی۔
رجسٹریشن کا عمل ایس ایم ایس کے ذریعے ہوگا
وفاقی وزیر نے بتایا کہ سکیم کے لیے پہلی بار شفاف ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
رجسٹریشن کے لیے موبائل فون سے REG لکھنا ہوگا۔ اس کے بعد شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، صوبے کا کوڈ اور رجسٹریشن کی تاریخ درج کرنا ہوگی۔
یہ پیغام 9771 پر بھیجنا ہوگا۔
رجسٹریشن کے بعد پٹرول لینے کے لیے TOK لکھ کر 9771 پر بھیجنا ہوگا۔ اس کے بعد فیول لینے کی اجازت کا پیغام موصول ہوگا۔
سکیم کی نگرانی کے لیے وار روم قائم
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سکیم میں شفاف طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد صرف حقیقی مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو مؤثر نگرانی کی ہدایت کی ہے۔ ان اداروں کو بلا تعطل سہولت کی فراہمی کے لیے 24 گھنٹے دستیاب رہنے کا کہا گیا ہے۔
سکیم کی نگرانی کے لیے وار روم قائم کیا گیا ہے۔ عوامی رہنمائی کے لیے کال سینٹر بھی فعال کر دیا گیا ہے۔
وزارت اطلاعات سکیم سے متعلق آگاہی کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کر رہی ہے۔ اہل افراد کو ایس ایم ایس کے ذریعے بھی آگاہ کیا جائے گا۔
کرایوں میں اضافے کو روکنے کے لیے اقدامات
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عام آدمی کی مشکلات کا احساس رکھتے ہیں۔ وزیراعظم خود خصوصی ریلیف سکیم کی نگرانی کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کی ہدایت پر چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز کو اسٹیئرنگ کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔
نائب وزیراعظم کو صوبوں سے مشاورت کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔
عطاء اللہ تارڑ کے مطابق پرائس کنٹرول میکنزم اور متعلقہ کمیٹیاں کرایوں میں اضافے کو روکیں گی۔ چنگ چی اور رکشہ استعمال کرنے والے مسافروں کو بھی زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے گا۔
کفایت شعاری کے اقدامات جاری ہیں
وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر کفایت شعاری کے اقدامات جاری ہیں۔
مارکیٹس اور ریسٹورنٹس مقررہ اوقات میں بند کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ہنگامی صورتحال کے دوران کیے گئے بعض اقدامات بھی جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دیگر اقدامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ضرورت کے مطابق ان کے دوبارہ نفاذ کا فیصلہ جلد کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کی کارکردگی پر عطاء اللہ تارڑ کی تنقید
ایک سوال کے جواب میں عطاء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ بہتر ہوتا پی ٹی آئی صوبے میں ماڈل گورننس کی مثالیں پیش کرتی۔
ان کے مطابق صوبے میں غریب عوام کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی اور معیاری ہسپتال قائم کیے جانے چاہییں تھے۔
انہوں نے یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی پی ٹی آئی کی کارکردگی پر سوال اٹھایا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی دھرنوں کی کال کے پیچھے کوئی واضح مطالبہ نظر نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ساڑھے 12 سالہ دور حکومت میں خیبر پختونخوا کا ایک ماڈل منصوبہ پیش کرے۔
بجلی کی لوڈشیڈنگ دو گھنٹے تک محدود رکھنے کا دعویٰ
وفاقی وزیر نے کہا کہ جنگی صورتحال کے باعث جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے۔
اس صورتحال سے آر ایل این جی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی۔ اس کے نتیجے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر لوڈشیڈنگ کو زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے تک محدود کیا گیا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ بجلی کے شعبے میں تاریخی اصلاحات کی گئی ہیں۔ مزید لوڈشیڈنگ بڑھنے نہیں دی جائے گی۔
پاور سیکٹر میں مزید اصلاحات جاری
وفاقی وزیر کے مطابق آئی پی پیز کا معاملہ حل کرکے بجلی کے شعبے میں گنجائش پیدا کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم نے سولر کے معاملے پر بھی ذاتی دلچسپی لی۔ اب حکومت کی توجہ پاور سیکٹر اصلاحات پر مرکوز ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ بحران کے خاتمے کے بعد بجلی کے شعبے میں مزید بہتری آئے گی۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم نے بجٹ سے قبل تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کا وعدہ کیا تھا۔
ان کے مطابق بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس سلیبز کی شرح کم کی گئی ہے۔
کم تنخواہ لینے والے ملازمین پر ٹیکس کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ دیگر ٹیکس سلیبز میں بھی کمی کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایکسپورٹرز نے بھی بجٹ کو سراہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے دوران اصلاحات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ان اصلاحات سے معیشت میں گنجائش پیدا ہوئی اور ریلیف نچلی سطح تک منتقل کیا جا سکا۔
