امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی عمل مجموعی طور پر مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
قدامت پسند پوڈکاسٹر جو روگن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایرانی قیادت کے اندر دو مختلف سوچ رکھنے والے دھڑے موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایک گروہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ چاہتا ہے، جبکہ دوسرا سخت گیر دھڑا کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے خلاف ہے۔
وینس نے دعویٰ کیا کہ مفاہمتی یادداشت طے پانے کے بعد سخت گیر عناصر کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل پر زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر سکتا ہے، جس کے بعد انہوں نے وہاں بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔
ان کے بقول سخت گیر عناصر نے آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی، جبکہ ایرانی قیادت کے عملیت پسند حلقے اب بھی مذاکرات جاری رکھنے کے حق میں ہیں اور انہیں یقین ہے کہ سفارتی راستہ ہی بہتر حل ہے۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ وہ یہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا ہوگا، تاہم امریکہ ایک محتاط سفارتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں معاشی دباؤ، مراعات اور سفارتی رابطوں کو یکجا کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی تشدد ہوگا تو امریکہ اس کا جواب دے گا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا عمل بھی جاری رکھا جائے گا۔
جے ڈی وینس نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام شدید نقصان کا شکار ہو چکا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ اقدامات کا مقصد خطے کو زیادہ مستحکم راستے پر لانا ہے۔
دوسری جانب یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ایران اس سے قبل متعدد بار یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کی بنیادی صلاحیت برقرار ہے، جبکہ بین الاقوامی مبصرین بھی یہ نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ ایران کے پاس انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر اور بعض جوہری تنصیبات اب بھی موجود ہیں۔
وینس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ موجودہ جنگی صورتحال کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہو رہی ہے۔
انہوں نے امریکہ میں موجود ان حلقوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو ایران کے خلاف حکومت کی تبدیلی کو واحد حل قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں حکومتیں تبدیل کرنے کی امریکی کوششوں کے نتائج حوصلہ افزا نہیں رہے، جبکہ ایسی حکمت عملی کے لیے بڑے پیمانے پر زمینی فوجی کارروائی درکار ہوتی ہے۔

